کینیڈا: قتل عام کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ، تین گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس کےمطابق شہریوں کے قتل کے منصوبے میں 4 افراد شامل تھے

کینیڈا میں پولیس نے ہیلی فیکس کے علاقے میں قتل عام کے ایک منصوبے کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں تین مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ چوتھے شخص نے خود کو اس وقت گولی مار لی جب پولیس نے اسے گھیر لیا تھا۔

پولیس کے مطابق کم ازکم دو مشتبہ افراد عوامی مقام پر جا کر فائرنگ کر کے شہریوں کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

تاہم پولیس حکام نے مزید تفصیلات بتائے بغیر یہ کہا ہے کہ ان کا بظاہر مقصد دہشت گردی نہیں لگتا تھا۔

نوا سکاٹیا رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے کماندار برین برنن کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں ہیلی فیکس کے نواحی علاقے ٹمبرلیا کا 19 سالہ نوجوان اور امریکی ریاست الینوائے سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ خاتون شامل تھے۔

حکام کے مطابق ان دونوں کو آتشیں اسلحے تک رسائی حاصل تھی اور 19 سالہ نوجوان اپنے گھر میں مردہ حالت میں پایا گیا۔

دوسری جانب ایک 20 سالہ کینیڈین نوجوان کو ایک خاتون سمیت ہیلی فیکس سٹین فیلڈ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے جبکہ 17 سالہ کینیڈین لڑکے کو اس کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔

پولیس نے کہا ہے کہ یہ ابھی پتہ چلانا باقی ہے بعد میں گرفتار کیے جانے والے دونوں مشتبہ افراد کا اس منصوبے میں کیا کردار تھا۔

برین برنن کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ اس گروہ جس میں شامل افراد شہریوں کو ایک پرتشدد کاروائی میں ہلاک کرنا چاہتے تھے تاہم تحقیقات میں ایسا کچھ سامنے نہیں آیا جس کی وجہ سے اسے دہشت گردانہ حملے کی قسم شمار کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیس کے خیال میں اس معاملے میں شامل معلوم تمام افراد کو پکڑا جا چکا ہے اور خطرہ ٹل چکا ہے۔

ملک کے سرکاری خبر رساں ادارے سی بی سی کے مطابق عوامی تحفظ کے وزیر سٹیون بلینے نے اس منصوبے میں شامل افراد کی گرفتاری کو کینیڈین عوام کی حفاظت کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے عمدہ کام کی ایک مثال کہا ہے۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل کینیڈا کی پارلیمان پر حملہ ہوا تھا جس کے بعد حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ملک میں مزید سخت قانون بنانے کا اعلان کیا تھا۔

.

اسی بارے میں