’صرف انگریزی ٹویٹ نہیں چلے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ alamy
Image caption کینیڈا کے وفاقی اداروں کو سنہ 1969 سے دوئزبانی ہونے کا درجہ دیا گیا تھا

اطلاع کے مطابق کینیڈا کے کابینہ کے وزرا سے کہا گیا ہے کہ مستقبل میں انھیں فرانسیسی اور انگریزی دونوں زبانوں میں ٹویٹ کرنے لازمی ہیں۔

کینیڈین پریس نیوز ایجنسی کے مطابق ملک کی سرکاری زبانوں کے کمشنر کو تحقیقات کے بعد معلوم ہوا ہے کہ عوامی سکیورٹی کے وزیر سٹیون بلینلی اور وزیرِ خارجہ جان بیرڈ نے قانون کی خلاف ورزی کی تھی کیونکہ ان کی ٹویٹس زیادہ تر انگریزی میں تھے۔

کمشنر کے دفتر کا کہنا ہے کہ جب وزرا عوام کے ساتھ سرکاری طور پر رابطہ کرتے ہیں تو انھیں کینیڈا کی دونوں سرکاری زبانوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور یہ قانون سوشل میڈیا پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

تحقیقات کے بعد دفتر کو پتہ چلا کہ دو ماہ میں وزیر خارجہ جان بیرڈ کی 202 ٹویٹس میں سے 181 ٹویٹس صرف انگریزی زبان میں تھیں۔

اگست 2014 میں جب تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا تب جان بیرڈ کے ترجمان نے کہا تھا کہ ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ذاتی تھا اور اس لحاظ سے وہ وفاقی زبان کے قوانین کے ’دائرے سے باہر‘ ہے۔

کینیڈا کے وفاقی اداروں کو سنہ 1969 سے ’دو زبانی‘ یا بائی لنگوئل ہونے کا درجہ دیا گیا تھا جب ملک میں سرکاری زبانوں کا ایکٹ نافذ ہوا تھا۔ اس قانون کے تحت انگریزی اور فرانسیسی زبانیں ملک میں برابر درجہ رکھتی ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ کینیڈا کے شہریوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے خدمات اور پیغامات دونوں زبانوں میں ملنا چاہیں۔

2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی کے 30 فیصد لوگ فرانسیسی زبان بولتے ہیں جبکہ 70 لاکھ کینیڈین اسے اپنی مادری زبان کہتے ہیں۔