کوپن ہیگن:’حملہ آور کی مدد کے الزام میں دو گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ان حملوں کے بعد کوپن ہیکن میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

ڈنمارک میں پولیس نے دو افراد کو حراست میں لیا ہے جن پر دارالحکومت کوپن ہیگن میں سنیچر کو دو افراد کو ہلاک کرنے والے حملہ آور کی مدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں افراد نے 22 سالہ حملہ آور عمر الحسین کی مدد کی اور اسے مشورے دیے تھے۔

پولیس نے اتوار کو ڈنمارک کے شہری عمر الحسین کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب ضلع نوریبرو میں انھوں نے اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی۔

ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ مارٹن لڈیگارڈ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں یہ داخلی دہشت گردی کا معاملہ ہو سکتا ہے۔’

پولیس نے اب تک حراست میں لیے گئے افراد کے نام ظاہر نہیں کیے تاہم اس کا کہنا ہے کہ انھوں نے حملوں میں استعمال ہونے والا ہتھیار فراہم کیا، اسے تلف کرنے میں بھی مدد کی اور حملہ آور کو چھپنے کی جگہ فراہم کی تھی۔

ڈینش وزیرِ خارجہ نے پیر کو اس حملہ آور کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایک غیرملکی جنگجو کی بات نہیں کر رہے ہیں جو شام یا عراق میں لڑتا رہا ہو۔ ہم ایک ایسے شخص کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے پولیس کی نظروں میں تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption عمر الحسین نے سنیچر کی شام پہلے ایک کیفے کو نشانہ بنایا تھا جہاں آزادیِ اظہار پر ایک سیمینار ہو رہا تھا

مارٹن لڈیگارڈ نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ جیل سے حال ہی میں رہا ہونے والا حملہ آور سخت گیر نظریات کی جانب کب مائل ہوا۔

’یہ ہم ابھی نہیں جانتے کہ وہ سخت گیر نظریات کا شکار جیل میں ہوا یا وہ جیل جانے سے قبل ہی ایسے لوگوں میں اٹھ بیٹھ رہا تھا۔‘

عمر الحسین نے سنیچر کی شام پہلے ایک کیفے کو نشانہ بنایا تھا جہاں آزادیِ اظہار پر ایک سیمینار ہو رہا تھا اور اس کے چند گھنٹے بعد انھوں نے یہودی عبادت گاہ کے قریب فائرنگ کی تھی۔

ان دونوں حملوں میں ایک فلم ہدایتکار اور یہودی عبادت گاہ کا ایک محافظ ہلاک جبکہ پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

اتوار کو حملہ آور کی ہلاکت کے بعد کوپن ہیگن کی پولیس نے تسلیم کیا تھا کہ اس کے پرتشدد ماضی کے بارے میں پولیس پہلے سے جانتی تھی۔

عمر الحسین ماضی میں اسلحہ رکھنے اور پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے مجرم رہ چکے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کوپن ہیگن کی پولیس نے تسلیم کیا تھا کہ وہ عمر الحسین کے پرتشدد ماضی کے بارے میں آگاہ تھی۔

ڈینش انٹیلیجنس سروس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کہیں حملہ کرنے والا یہ شخص پیرس میں گذشتہ مہینے ہونے والے حملے کی نقل تو نہیں کر رہا تھا جہاں 17 افراد ایک طنزیہ رسالے چارلی ایبڈو اور ایک کوشر مارکیٹ پر حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

وزیراعظم ہیلا تھورننگ شمڈٹ نے اس فائرنگ کے واقعے کو ’ڈنمارک کے خلاف دہشت گردی کا حملہ قرار دیا‘ اور کہا کہ اُن کی حکومت آزادئ اظہار کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

ڈنمارک اپنے آپ کو فخریہ طور پر اُن چند یورپی ممالک میں سے ایک قرار دیتا ہے جس نے 1940 میں یہودیوں کی نسل کشی کے دوران بڑی تعداد میں اپنی یہودی آبادی کی حفاظت کی۔

اسی بارے میں