اطالوی آپریشن میں دو ہزار سے زیادہ تارکین وطن بچا لیےگئے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اٹلی میں حکام کا کہنا ہے کہ اطالوی کوسٹ گارڈز نے لیبیا کے ساحل کے قریب ایک بڑے آپریشن کے دوران دو ہزار سے زیادہ تارکین وطن کو بچایا ہے۔

اطالوی اہلکاروں کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران لیبیا کے جانب سے آنے والی ایک سپیڈ بوٹ پر سوار کلاشنکوف سے مسلح افراد نے امدادی ٹیموں کو بھی دھمکایا۔

گذشتہ ہفتے بحیرۂ روم میں کم از کم تین سو تارکین وطن کے ڈوبنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

یہ افراد چھوٹی کشتیوں میں سفر کر رہے تھے اور لیبیا کا ساحل چھوڑنے کے بعد خراب موسم کے باعث مشکل میں پھنس گئے تھے۔

اس کے بعد جمعہ کو مزید چھ سو تارکین وطن کو لیبیا کے ساحل سے پچاس میل کے فاصلے پر بچایا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی مطابق اتوار کو کی جانے والی حالیہ امدادی سرگرمیوں میں کوسٹ گارڈز کے چار طیاروں، دو ٹگ بوٹس اور اطالوی بحریہ کی ایک کشتی نے شرکت کی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق تارکین وطن 12 کشتیوں پر سوار تھے اور انہیں اٹلی پہنچا دیا گیا ہے۔

اطالوی وزارت مواصلات کے مطابق ریسکیو آپریشن کی دوران لیبیا کے ساحل کی جانب سے کلاشنکوف رائفلز سے مسلح چار افراد تیزی سے آئے اور انہوں نے کوسٹ گارڈز کو تارکین وطن کی خالی ہونے والی کشتی واپس کرنے کے لیے کہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

وزیر مواصلات مؤریزیو لُپی نے بتایا کہ کچھ مسلح افراد کشتی پر سوار ہو کر اسے اپنے ساتھ لے گئے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق 2014 میں تقریباً 3500 افراد بحیرۂ روم عبور کر کے یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہوئے، جو اسے تارکین وطن کے لیے یورپی یونین میں داخل ہونے کا سب سے خطرناک سمندری راستہ بھی بنا دیتا ہے۔

اسی عرصہ کے دوران دو لاکھ سے زائد افراد کو بچایا گیا تھا۔

بہت سارے افراد کو اطالوی آپریشن ْمارے نوسٹرمْ کے دوران سمندر سے نکالا گیا، اس آپریشن کا آغاز اکتوبر 2013 میں لامپےدوسا کی قریب پیش آنے والے سانحہ کے بعدکیا گیا تھا جس میں 366 تارکین وطن ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ آپریشن اب ختم ہو چکا ہے تاہم اقوام متحدہ کے اعلیٰ کمشنر برائے مہاجرین نے یورپی یونین کے سربراہان کو مزید اموات کے خدشے سے آگاہ کیا ہے۔

کچھ یورپی ممالک بشمول برطانیہ کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے لیے امدادی سرگرمی مہاجرین کو یہ راستہ اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔

یورپی یونین اب کچھ جہازوں کے ساتھ ٹریٹن نامی بارڈر کنٹرول آپریشن کر رہا ہے، جو صرف یورپ کی ساحلی پٹی کے پانیوں تک محدود ہے۔

اسی بارے میں