مصر کا لیبیا میں فوجی مداخلت کی قرارداد کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصر نے پیر کو فرانس کے ساتھ 5 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں 24 جدید لڑاکا جیٹ طیاروں کی خریداری بھی شامل ہے

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے لیبیا میں بین الاقوامی فوجی مداخلت کی اجازت کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

فرانسیسی ریڈیو سے بات کر تے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم انھیں اپنے بچوں کے سر کاٹنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

21 مصری قبطی عیسائیوں کی ہلاکت کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد مصر کے جنگی طیاروں نے پیر کی صبح لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی۔

خیال رہے کہ لیبیا میں 2011 سے حریف ملیشیا گروہ اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔

متعدد ملیشیا گروہوں نے ملک پر قبضہ کرنے کے لیے جنگ چھیڑ رکھی ہے اور ملک میں دو حریف حکومتیں طرابلس اور تبروک میں کام کر رہی ہیں۔

صدر عبدالفتح السیسی نے مطالبہ کیا ہے کہ لیبیا کی بین الاقوامی تسلیم شدہ حکومت کو ہتھیار فراہم کیے جائیں۔ لیبیا کی حکومت حریف ملیشیا گروہوں کے دارالحکومت پر قبضے کے بعد تبروک منتقل ہو گئی ہے۔

یورپ ریڈیو ون سے بات کرتے ہوئے بین الاقوامی اتحاد کی مدد سے 2011 میں لیبیا کے رہنما معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے پیدا ہونے والی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے لیبیا کی عوام کو ملیشیاؤں اور انتہا پسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاتھا، یہ ایک نامکمل مہم تھی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مصری فضائیہ کو دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کا دوبارہ حکم دیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم سب کو مل کر ایسا کر نے کی ضرورت ہے۔‘

مصر نے پیر کو فرانس کے ساتھ 5 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں 24 جدید لڑاکا جیٹ طیاروں کی خریداری بھی شامل ہے۔

مصری کے سرکاری ٹی وی کے مطابق پیر کے روز کیے جانے والے حملوں میں درنا کے شہر کے قریب دولتِ اسلامیہ کے کیمپس، تربیتی مراکز اور گولہ بارود اور ہتھیاروں کے ذخیروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ بمباری دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں لیبیا سے اغوا کیے جانے والے 21 مصری قبطی عیسائیوں کی ہلاکت کی ویڈیو جاری ہونے کے چند گھنٹے بعد کی گئی۔

عسکری ذرائع کے مطابق اس وقت زمینی افواج کو بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے مگر فضائی حملے جاری رہیں گے۔

یاد رہے کہ مصری قبطی عیسائیوں کو دولتِ اسلامیہ نے اپنے زیرِتسلط مشرقی لیبیا کے ساحلی شہر سرت سے دسمبر اور جنوری میں میں الگ الگ واقعات میں اغوا کیا تھا۔

اسی بارے میں