آدمی ریپ کیوں کرتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Sahika Yuksel

ترکی میں عورتوں کی جانب سے ریپ اور جنسی تشدد کے خلاف احتجاج کی مہم جاری ہے اسی تناظر میں ہم نے استنبول کی ایک معروف ماہر نفسیات ’شیکا یوکسل‘ سے پوچھا کہ ایک ریپ کرنے والے کا ذہن کس طرح کام کرتا ہے۔

آدمی ریپ کیوں کرتے ہیں؟ کیا چیز ریپ کرنے والے کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے؟

آدمی ریپ کیوں کر تے ہیں؟ یہ سمجھنا کہ آدمی جنسی تسکین کے لیے ریپ کرتے ہیں سراسر غلط ہے۔ سڑک پر کوئی آدمی کسی عورت کا ریپ نہیں کرتا ہے۔

وہ جانتے ہیں کہ یہ غلط عمل ہے اس لیے وہ رازداری سے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر ریپ کرتے ہیں۔

ریپ جنسی عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک حملہ ہے۔ اس کا مقصد جیتنا ہے۔ یہ ایک چیز پر قابو پانے کا عمل ہے اور اس عمل میں عورت وہ چیز بن جا تی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جن کو اس سے جنسی تسکین حاصل ہوتی ہو۔

اگرچہ ریپ کو بدترین عمل سمجھا جاتا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے مگر ریپ عورتوں پر ہونے والا واحد ظلم نہیں ہے۔

جب عورتوں کے حقوق کو نظر انداز کیے جائے گا اور ان پر جسسمانی، مالی اور نفسیاتی تشدد کی اجازت دی جائے گی تو پھر ریپ بھی ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی میں عورتوں پر ہونے والے جنسی تشدد کے خلاف نکالی گئی ریلی میں شریک ایک خاتون

کیا ریپ کرنے والے کی پرورش کا بھی اس میں کوئی عمل دخل ہوتا ہے؟

بچوں کی پرورش مردوں کی غالب طاقت والی ثقافت کے مطابق کی جاتی ہے۔ماں کو بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ مختلف سلوک کرے اور اس کا حکم مانے۔

اس لیے وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ بھی الگ الگ طریقے سے پیش آتی ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ جن لڑکیوں کی ماوؤں کو اپنی شادی میں تشدد کا سامنا رہا ہوتا ہے ان کو بھی اکثر اپنی شادیوں میں تشدد جھیلنا پڑتا ہے۔

جن آدمیوں کے باپ ان کی ماں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں وہ بھی اپنی بیویوں کے ساتھ پر تشدد رویہ اختیار کر تے ہیں۔

آپ شاہد کہیں کہ یہ تو بین الاقوامی مسئلہ ہے لیکن اس کے سدِباب کے لیے مخلتف ممالک میں مخلتف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ ترکی میں عورتوں کو عام طور پر کم تر درجے کی تعلیم دی جا تی ہے۔

ہمارے سیاستدان بار ہا کہہ چکے ہیں کہ مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دنیا کے بہشتر ترقی یافتہ ممالک میں جنسی جرائم میں ملوث افراد کو خصوصی تربیتی کورس کرائے جاتے ہیں جن کا عموماً مثبت نتیجہ نکلتا ہے

آپ ایک ایسے شخص سے کیسے نمٹ سکتے ہیں جس کے ذہن میں ریپ کرنے کے خیالات آتے ہوں اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے وہ مدد کا طلب گار ہو؟

کوئی بھی شخص اپنی اصلاح نہیں کر سکتا اگر وہ اپنے غلط کاموں کی ذمہ داری قبول نہ کرے۔ اگر وہ غلط کام کرنے کے بعد پکڑا جائے اور پھر یہ کہے کہ وہ اصل میں ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا تو وہ اپنی اصلاح کبھی بھی نہیں کر سکے گا۔

ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جن میں ریپ کا رحجان ہو اور وہ پکڑے جانے سے پہلے اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مدد حاصل کریں۔

اس کا یہ ہی حل ہے کہ ریپ کے جرم میں سزا یافتہ افراد کو نفسیاتی مدد فراہم کی جائے مگر ترکی میں اس کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

یہ ہر شخص کا حق ہے کہ اس کو مدد فراہم کی جائے اور اگر اس سلسلے میں مدد نوجوان عمر میں فراہم کی جائے تو یہ زیادہ فائدے مند ثابت ہوگی۔

دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں جنسی جرائم میں ملوث افراد کو خصوصی تربیتی کورس کرائے جاتے ہیں جن کا عموماً مثبت نتیجہ نکلتا ہے۔

یہاں میں ایک اور بات بھی کہنا چاہوں گی کہ اکثر ریپ کے مجرموں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کی ریاستیں جہاں موت کی سزا رائج ہے وہاں جرائم میں کو ئی کمی نہیں آئی ہے۔

اس طرح کے اقدامات سے کو ئی فائدہ نہیں ہوتا بس اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ عوام کو خاموش کرانے کے لیے ایسے اقدامات کر تے ہیں۔

ہم بدلہ لینے کی بات نہیں کر رہے ہمارا مقصد معاشرے سے ریپ اور جنسی جرائم کا خاتمہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption استبول میں ہونے والے ایک مظاہرے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے

اگر جنسی حملے کا نشانہ بننے والی کوئی عورت ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے خلاف بولنا چاہے تو اسے کیا کرنا چاہیہے؟

ایسے معاشرے جہاں جنسی معاملات پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے اور شادی سے پہلے جنسی تعلقات قائم کرنے کی ممانعت ہوتی ہے وہاں جنسی جرائم کے خلاف شکایات کم ہی درج کرائی جاتی ہیں۔

ریپ کرنے والے اس سے باخوبی واقف ہوتے ہیں اور عورتوں کو دھمکا سکتے ہیں کہ وہ اس کے خاندان کو بتا دیں گے کہ کیا ہوا ہے اور وہ اکثر ان گھناؤنی حرکات کو جاری رکھتے ہیں۔

ریپ کرنے والے اپنے جیسے دیگر افراد کو بھی اس بارے میں بتا سکتے ہیں اور متاثرہ عورت کو بلیک میل کر کے مزید جنسی استحصال بھی کرسکتے ہیں۔

ریپ کا شکار خاتون کو قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیے۔وہ سماجی اور نفسیاتی مدد بھی لے سکتی ہے۔ وہ اپنے قریبی دوستوں سے اس سلسلے میں بات کر سکتی ہے۔

جنسی استحصال یا حملے سے مستقبل میں بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس بارے میں خاموش نہ رہیں۔

جنسی حملوں سے حمل اور جنسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں اس لیے ضروری ہے کہ متاثرہ خواتین فوراً طبی مدد حاصل کریں ۔

اصولی طور پر تو ایسے مراکز ہونے چاہیے جہاں پر جنسی تشدد کا شکار بننے والوں کو ہر قسم کی مدد بغیر کسی تاخیر کے ایک ہی چھت کے نیچے فراہم کی جائے۔

ایسے مرد جن کے ساتھی کے ساتھ ریپ ہوا ہو وہ بھی ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہوتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ان کو بھی ہر طرح کی سماجی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جائے۔

اسی بارے میں