امریکہ کی جنگ اسلام کے ساتھ نہیں: صدر براک اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر اوباما انتہا پسندی کے بارے میں سربراہی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ اسلام کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہے بلکہ ان کے ساتھ ہے جنھوں نے مذہب کو مسخ کر دیا ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ جو لوگ دولت اسلامیہ اور القاعدہ کی سرکردگی کر رہے ہیں وہ مذہبی رہنما نہیں بلکہ دہشت گرد ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کوئی مذہب دہشت گردی اور تشدد کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے کہا کہ وہ امریکہ اور اس کے باہر بھی رواداری کی آوازوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں۔

صدر اوباما بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں پرتشدد انتہا پسندی کے انسداد کے بارے میں ایک سربراہی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

قبل ازیں صدر اوباما نے لاس اینجلس ٹائمز کے لیے ایک اداریے میں لکھا کہ پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف جنگ صرف فوجی قوت کے بل بوتے پر نہیں جیتی جا سکتی۔

امریکی صدر نے مغربی اور مسلم دنیا کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ انتہا پسندوں کے جھوٹے وعدوں کو شکست دینے کے لیے متحدہ ہو جائیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ انھیں متحدہ ہو کر اس مفروظے کو مسترد کرنا ہوگا کہ جہادی گروپ اسلام کے نمائندہ ہیں۔

اپنے مفصل خطاب میں امریکی صدر نے مزید کہا کہ دہشت گرد ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کے ترجمان نہیں ہیں۔

مغرب اور مسلم دنیا کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اقوام عالم کو ’تہذیبوں کے درمیان تصادم‘ کے مفروظے کو بھی تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔

صدر اوبامہ نے اعتراف کیا کہ شدت پسند گروہوں کے بہکاوے کا مقابلہ کرنے کے لیے نوجوان نسل کی شکایات کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔

یہ کانفرنس ڈنمارک، فرانس اور آسٹریلیا میں شدت پسندوں کے حالیہ حملوں کے بعد ہورہی ہے جس میں ساٹھ سے زیادہ ملکوں کے نمائندے شرکت کررہے ہیں۔

اسی بارے میں