’شامی حکومت حلب پر چھ ہفتے بمباری نہ کرنے پر رضامند‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنگ کی وجہ سے حلب شہر کا زیادہ تر حصہ کھنڈر بن چکا ہے۔

شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے ایلچی سٹافن ڈی مسٹورا کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کی حکومت آزمائشی جنگ بندی کے لیے حلب پر بمباری کا سلسلہ چھ ہفتے کے لیے روکنے پر تیار ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ شام کی جانب یہ اعلان امید کی ایک کرن ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ اس پر کب سے عمل شروع کرے گا۔

شام میں حزبِ مخالف کی قومی کونسل نے کہا ہے کہ شامی حکومت اعلان تو بہت کرتی رہے ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس تازہ اعلان پر عمل کتنا کرتی ہے۔

حلب کے نواح میں شامی فوج اور باغیوں کے مابین شدید جھڑپیں ہوتی رہی ہیں اور حکومتی افواج باغیوں کی رسد کا راستہ کاٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔

منگل کو بھی لڑائی کے دوران 100 سے زیادہ فوجیوں اور باغیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں اور شامی فوج نے شہر کے شمال میں کئی دیہات پر قبضہ بھی کیا ہے۔

اس جنگ کی وجہ سے حلب شہر کا زیادہ تر حصہ کھنڈر بن چکا ہے۔

سٹافن ڈی مسٹورا اکتوبر 2014 سے حلب میں جنگ بندی کروانے لیے کوشاں ہیں۔

اپنے حالیہ دورۂ شام میں انھوں نے شامی صدر سے طویل ملاقات کی جس میں بظاہر بشار الاسد نے اس بات کا اشارہ دیا کہ وہ چھ ہفتے کے لیے حلب پر بمباری اور گولہ باری روکنے کے لیے تیار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حلب میں 2012 کے وسط سے لڑائی کے آغاز کے بعد سے یہ شہر حکومتی افواج اور باغیوں میں بٹا ہوا ہے۔

شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے ایلچی کا کہنا ہے کہ وہ جلد از جلد شام واپس جائیں گے اور اس دورے کا مقصد شمالی شام کے اس شہر میں فریقین کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان ہوگا۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’ویسے ماضی کے تجربات کی روشنی میں میں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں۔ یہ (جنگ بندی) کروانا انتہائی مشکل ہوگا۔‘

رواں ہفتے پیر کو شام میں حکومت کے حامی اخبار الوطن نے خبر دی تھی کہ حکومتی افواج اسی ہفتے حلب کا مکمل محاصرہ کرنے والی ہیں اور اس کے بعد بڑا حملہ کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا بھی کہنا ہے کہ حکومتی افواج کی پیش قدمی نے حلب میں مقامی سطح پر مجوزہ جنگ بندی کے امکانات کم کر دیے ہیں۔

حلب میں 2012 کے وسط سے لڑائی کے آغاز کے بعد سے یہ شہر حکومتی افواج اور باغیوں میں بٹا ہوا ہے۔

گذشتہ برس شامی فوج نے باغیوں کے زیرِ قبضہ شہر کے مغربی حصے پر حکومت نواز ملیشیا اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد سے بڑا حملہ کیا تھا۔

اسی بارے میں