’بڑی بڑی کرپٹ مچھلیاں شکنجے میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیاحت کی سابق وزیر اور سابق صدر کی پسندیدہ ترین خاتون ایلنا اودیرا کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا تھا

مقامی ٹی وی چینلوں کا عملہ رومانیہ کی قومی انسداد بدعنوانی یا نیشنل اینٹی کرپشن ڈائریکٹوریٹ (ڈی این اے) کے باہر بے چینی سے منتظر ہے کہ اب باہر کون لایا جائے گا۔

لٹکے ہوئے چہروں کے ساتھ ملک کے ماضی کے کرتا دھرتا کسی ڈرامے کی طرح نمودار ہو رہے ہیں۔

سابق وزرا، میڈیا مالکان، جج ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور حتی کہ سابق صدر ٹرائن بسسکو کی پسندیدہ خاتون وزیر ایلنا اودیرا جن کو’پریّزیڈنٹس بلونڈ‘ یا صدر کی سنہری بالوں والی کہا جاتا تھا سب کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں۔

سیاحت کی سابق وزیر اور صدراتی امیدوار محترمہ اودیرا کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔ آج کل وہ پارلیمان کی رکن ہیں۔

حال ہی میں ڈی این اے کے شکنجے میں آنے والوں میں سوشل ڈیموکریٹ وزیر اعظم وکٹر پوٹا کی والدہ، بہن اور بہنوئی لولین ہرتانو ہیں۔

یورپی یونین میں شامل ہونے کے آٹھ سال اور ڈی این اے بننے کے تیرہ سال بعد رومانیہ منظم جرائم کے بارے میں سنجیدہ ہوتا نظر آ رہا ہے اور یورپی یونین سے اسے خوب داد وصول ہو رہی ہے۔

لولین ہرتانو جو وزیر اعظم کے بہنوئی ہیں انھیں یورپی یونین کی طرف سے دباؤ کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

کمیشن کے اول نائب صدر فرانز تیمرمانز نے گزشتہ ماہ یورپی یونین میں کرپشن کے خلاف جنگ کے بارے میں ایک رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ’رومانیہ صحیح راستے پر گامزن ہے اور اسے اس پر ڈٹے رہنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کلاوں ایہونس سیاست میں نواورد ہیں

’کرپشن کا پتا لگانا سب سے بڑا چیلنج ہے اور اولین ترجیح بھی‘۔

یورپی یونین میں تعاون اور تصدیق کا نظام سنہ 2007 میں وضع کیا گیا تھا تاکہ رومانیہ اور بلغاریہ میں عدالتی اصلاحات اورر کرپشن کے خلاف جنگ کی نگرانی کی جا سکے۔ رومانیہ کے لیے اس بارے میں مثبت رپورٹس آنا بہت ضروری تاکہ وہ یورپ میں آزاد سرحدوں کے نظام یا شنجن ملکوں میں شامل ہو سکے۔

صرف گزشتہ سال 1138 عوامی شخصیات، بشمول سرکردہ سیاست دانوں، بزنس مین، جج اور سرکاری اہلکاروں کو ڈی این اے سے سزائیں مل چکی ہیں۔ اس مہم کی سرکردگی چیف پراسیکیوٹر لورا کوس کر رہی ہیں اور چھٹیوں کو نکال کر اوسطً ہر روز چار افرا کو سزائیں سنائی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ رومانیہ میں ایسا کیا ہو گیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لولین ہیراتنو وزیر اعظم کے بہنوئی ہیں

تجزیہ کار ایلینا منگیو پیپیدی کا کہنا ہے کہ : ’صرف تین برس میں دونوں بڑی جماعتیں، نارنجی ڈیموکریٹک لبرل اور سرخ سوشل ڈیموکریٹ انتخابات میں شکست کھا چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption انسداد بدعنوانی کمیشن ڈی این اے کو تیرہ سال پہلے قائم کیا گیا تھا

اس کا نتیجہ یہ کہ ’ٹرانس پارٹی مافیا‘ یا تمام جماعتوں میں شامل کرپٹ لوگوں جو ملک چلا رہے تھے، تمام سرکاری سودے جو یورپی یونین سے ملنے والا پیسے سے کیے جاتے تھے ان کے ہاتھوں میں تھے، جو ٹیکس چوری کرتے تھے اور ججوں اور قانون نافذ کرنے والوں کو خریدتے تھے، اب انشتار کا شکار ہے۔

اس کے ساتھ ہی رومانیہ میں گزشتہ نومبر میں منتخب ہونے والے صدر کلاوس ایہونس کا مضبوط کردار بھی ہے۔ سیاست میں نووارد ہونے کے ناطے وہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے اس خفیہ معاہدے کا حصہ نہیں ہیں جس کو رومانیہ کی سیاست نے گزشتہ 25 سال سے جکڑا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لورا کوسی ڈی این اے کی موجودہ صدر ہیں

ڈی این اے کی ایک مثال سینتس سال کھیلوں اور نوجوانوں کے امور کی سابق وزیر مونیکا ریڈزی کو ملنے والی سزا ہے۔ انھوں پر اپنے اختیار سے ناجائزہ فائدہ اٹھا تے ہوئے ، اپنی من پسند کمپنیوں کے ذریعے آٹھ لاکھ ڈالر کے سرکاری فنڈ سے ایک کنسرٹ کرنے کے جرم میں پانچ سال کی سزا سنائی گئی۔

ڈی این نے خفیہ اداروں کے ذریعے اعلی سرکاری شخصیات پر نظر رکھتی ہے۔ منگیو پیپیدی نے کہا ہے کہ ماضی میں ڈی این صرف کچھ لوگوں کے خلاف کارروائی کرتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں