’امریکہ شدت پسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مدد جاری رکھے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکی وزیرِ خارجہ نے خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا

پاکستان کے وزیرِداخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قریبی رابطے اور تعاون میں ہیں جبکہ حالیہ مہینوں میں امریکہ سے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیِر داخلہ چوہدری نثار نے یہ بات امریکی ہم منصب جان کیری سے ملاقات میں کہا۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تعلقات، مذاکرات اور رابطوں کی تعریف کی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ نے خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

چوہدری نثار کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ دہشت گردی کے خاتمے اور معاشی ترقی کے لیے پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔

اس موقع پر چوہدری نثار نے بتایا کہ جان کیری اور امریکی انتظامیہ کی کوششوں کے باعث گزشتہ چند مہینوں میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔

اس سے قبل وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے دہشت گردی کے وائٹ ہاؤس کی جانب سے منعقد کیے جانے والے تین روزہ سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انھوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب اور قومی لائحہ عمل کے بارے میں شرکا کو آگاہ کیا۔

وزیرِداخلہ نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پانچ نکاتی حکمت عملی بھی پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ مقامی آبادیوں کو مضبوط کرنے، امن کی خواہاں کثیر آبادیوں کا اعتماد جیتنے، مقامی آبادیوں میں انتہا پسندی کی ترغیب کا مقابلہ کرنے کی اہلیت پیدا کرنا، تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے اور برداشت اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی پیدا کرنے سے دہشت گردی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گڈ گورننس سے دہشت گردی کو مارا جا سکتا ہے: بان کی مون

اس تین روزہ سربراہی اجلاس میں موجود 60 ممالک نے دنیا سے پرتشدد انتہاپسندی اور اس کی تمام اقسام کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

شریک ممالک نے اعتراف کیا کہ فوجی طاقت اور خفیہ معلومات اکٹھا کرنا بڑھتے ہوئے تشدد اور انتہا پسندی کو کنٹرول کرنے کے لیے حل نہیں بلکہ اس کے لیے برداشت اور امن کی ترویج کی ضرورت ہے۔

انتہاپسندی کے خلاف اجلاس سے خطاب میں اقوم متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بتایا کہ آئندہ مہینوں میں وہ دنیا بھر سے مذہبی رہنماؤں سے ایک ملاقات کریں گے۔ انھوں نے خبرادار کیا کہ بین الاقوامی سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔

بان کی مون کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’حقیقی خطرات کے نمٹنے کے لیے فوجی کارروائیاں ضروری ہوجاتی ہیں لیکن گولیاں جادوئی حل نہیں، میزائل سے تو شاید دہشت گرد مر جائیں لیکن اچھی انتظامیہ سے دہشت گردی کو مارا جا سکتا ہے۔‘

Image caption مسلم علما اور سکالرز اس تاثر کو رد کریں کہ مغرب تہذیبوں کا تصادم چاہتا ہے: اوبامہ

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق انسداد دہشت گردی سے متعلق بین لاقوامی سربراہی اجلاس سے خطاب میں امریکی صور براک اوباما نے دنیا بھر کے ممالک سے کہا ہے کہ وہ پرتشدد اسلامی عسکریت پسندی کو روکنے میں مدد کریں۔

براک اوباما کا کہنا تھا کہ مغرب اور مشرق وسطیٰ کی تاریخ نہایت پیچیدہ مراحل سے گزری ہے اور خاص امور سے متعلق پالیسیوں پر دونوں میں سے کوئی بھی تنقید سے پاک نہیں۔

’مگر یہ نظریہ کہ مغرب اسلام کے خلاف جنگ کر رہا ہے ایک جھوٹ ہے، اپنے عقائد سے قطع نظر یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اسے مسترد کریں۔‘

انھوں نے مسلم کمیونٹیز بشمول سکالرز اور علما کے نام پیغام میں کہا کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف اسلام کی غلط تشریح کو درست کریں بلکہ اس تاثر کو بھی مسترد کریں کہ مغرب تہذیبوں کا تصادم چاہتا ہے۔

اپنے خطاب میں امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کا تدارک کرنے کے لیے کمیونٹی لیڈرز اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ کام کرے گا۔ اس مقصد کے لیے جدید ڈییجیٹل نظام تشکیل دیا جائے گا۔

تاہم دوسری جانب سیاسی تنقید نگار وائٹ ہاؤس پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ وہ دولتِ اسلامیہ کی طرف سے پیرس اور کوپن ہیگن میں حملوں کے بعد انتہاپسندی کو مذہب اسلام کے ساتھ جوڑنے سے کترا رہا ہے۔

اسی بارے میں