شام: مشتبہ جنگی مجرموں کے نام ظاہر کرنے پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے 90 لاکھ شامیوں نے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک نقل مکانی کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے تفتیش کار اندازاً 200 ایسے افراد کے نام ظاہر کرنے پر غور کر رہے ہیں جن پر شام میں جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

تفتیش کاروں نے جمعے کو کہا ہے کہ شام میں جنگی جرائم میں ’بہت زیادہ اضافہ‘ ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق شام میں چار برس سے جاری خانہ جنگی میں دو لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

شام کے بارے میں تحقیقات کرنے والے اقوامِ متحدہ کے کمیشن کے ارکان کا کہنا ہے کہ انھوں نے پانچ مختلف فہرستیں تیار کی ہیں جن میں جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو علیحدہ علیحدہ گروپوں میں رکھا گیا ہے۔

کمیشن نے ان افراد کی کل تعداد بتانے سے انکار کیا ہے تاہم سفارتی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ تعداد اندازً دو سو کے لگ بھگ ہے۔

شام میں حکومتی افواج نے خانہ جنگی کے دوران باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر بےشمار فضائی حملے کیے ہیں اور حقوقِ انسانی کے ادارے شامی حکومت پر ان حملوں میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے 90 لاکھ شامیوں نے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک نقل مکانی کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں چار برس سے جاری خانہ جنگی میں دو لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

جمعے کو سلامتی کونسل میں ایک بریفنگ کے بعد شام کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ جنگی مجرموں کی فہرست شائع کرنے کے ’متوقع نتائج‘ کے بارے میں غور کر رہا ہے۔

جمعے کو ہی شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کمیشن نے کہا ہے کہ شام میں حکومت اور اس کے مخالف النصرہ فرنٹ اور دولتِ اسلامیہ جیسے بڑے شدت پسند گروہوں اور چھوٹے باغی گروپوں، سب نے ہی مظالم ڈھائے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے عموماً مشتبہ جنگی مجرموں کے نام شائع نہیں کیے ہیں لیکن اس پالیسی کو برقرار رکھنا جنگی مجرموں کو استثنیٰ دینے کے برابر ہوگا۔

جمعے کو تفتیش کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنی تحقیقات کا تبادلہ متعلقہ ممالک سے کر رہے ہیں تاکہ وہ شام میں جرائم میں ملوث اپنے شہریوں کے خلاف کارروائی کر سکیں۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ مبینہ جنگی مجرموں کی چار فہرستیں حقوقِ انسانی کے لیے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر کو دے دی گئی ہیں اور پانچویں مارچ میں حوالے کی جائے گی۔

2011 سے اب تک تیار کی جانے والی ان فہرستوں میں اندازے کے مطابق تیس سے چالیس نام ہیں۔