شارک کا شکار بننے والا شارکس کا رکھوالا

تصویر کے کاپی رائٹ ACHMAT HASSIEM
Image caption ’ شارکس کے بارے میں بات کرنے کے لیے ان کے شکار سے بچ جانے والے سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے؟‘

جنوبی افریقہ کے لائف گارڈ اچمت حسیم کی ایک ٹانگ کیپ ٹاؤن کے ساحل پر شارک کے ایک حملے میں ضائع ہوگئی تھی۔ اس کے بعد وہ انعام یافتہ پیرا اولمپیئن اور خطرے سے دوچار شارکس کا تحفظ اور وکالت کرنے ماہرسمندری حیات بن گئے۔

’میں نہیں جانتا کہ اگر آپ نے کبھی ایسی شارک دیکھی ہو جس کے پورے جبڑے کھلے ہوئے ہوں۔ یہ ایک انتہائی دہشت ناک منظر ہوگا جو آپ دیکھیں گے۔ اور وہ آپ کی جانب بڑھ رہی ہو۔‘

حسیم سمندر کے کنارے پلے بڑھے، جہاں انھوں نے بہت کچھ سیکھا، جیسا کہ وہ خود بتاتے ہیں کہ ’ہر بل کھاتی ہوئی لہر سے انہیں پیار ہے اور وہ اس کا احترام کرتے ہیں‘

خلیج فالس میں اپنے خاندانی گھر کی چھت سے وہ سطح سمندر کے اوپر سیلز کے شکار کے لیے قلابازیاں کھاتی ہوئیں شارکس دیکھ سکتے تھے۔

ان کا کہنا ہے ’اس وزن اور جسامت کی کسی بھی چیز کا پانی سے باہر آتے دیکھنا انتہائی حیرت انگیز ہے۔ یہ جنگلی حیات کی خالص ترین شکل ہے۔‘ لیکن حسیم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ ان طاقت ور سمندری شکاریوں میں سے کسی ایک کے حملے سے بچ پائیں گے، اور اس دوران اپنے بھائی کو بھی مرنے یا زخمی ہونے سے بچا لیں گے۔

اگست 2006 میں وہ دونوں بھائی مقامی لائف گارڈ کے ہمراہ مشق کررہے تھے۔ تھکے ماندے تیراکوں کا کردار ادا کرتے ہوئے، حسیم کنارے کے قریب تھے اور ان کے بھائی افق کی جانب سمندر میں 15 میٹر (50 فٹ) کی دوری پر تھے۔

جیسے ہی لائف گارڈز نے اپنی چھوٹی کشتی پانی میں اتاری تو حسیم نے سمندر کی جانب دیکھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption ’میں نے دیکھا کہ میری آدھے سے زیادہ ٹانگ شارک کے منہ میں پہنچ چکی ہے۔‘

’میں سمندر کو بغور دیکھ رہا تھا جب میری نظر کسی ایسی چیز پر پڑی جو میرے بھائی کی جانب بڑھ رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ یہ تکون بڑھتی جا رہی ہے، بڑھتی اور مزید بڑھتی جا رہی ہے۔‘

اس ’بڑی سی تکون‘ کو جاننے کی بے تابی میں حسیم نے پانی کی سطح سے اندر جھانک کر دیکھا۔ ان کا کہنا تھا ’یہ وہ لحہ تھا جب میں نے اس ابھری ہوئی پنکھ کے ساتھ جڑی چار اعشاریہ سات میٹر (16 فٹ) لمبی سفید شارک کو دیکھا۔ میں یقین نہیں کر سکتا تھا کہ یہ اتنی بڑی ہے۔‘ حسیم جانتے تھے کہ شارک حملہ کرنے سے پہلے حملہ آور ہونے کے لیے غوطہ کھائے گی۔ انہیں خوف تھا کہ وہ اپنے بھائی کو شارک کے جبڑوں میں دیکھنے والے ہیں، ان کے ذہن میں پہلا خیال اس جانور کی توجہ بٹانے کا آیا تھا۔

حسیم کہتے ہیں ’میں فوراً پانی کی سطح پر ہاتھ مارنے لگا، زیادہ سے زیادہ چھپاکے مارنے کی کوشش کرنے لگا۔

’میرا بھائی ایک بے ہوش مریض کا کردار ادا کر رہا تھا، وہ پانی کے اوپر اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا۔

خوش قسمتی سے شارکس آواز کی جانب حرکت کرتی ہیں، اور میں نے دیکھا کہ یہ دیوہیکل پنکھ میرے بھائی سے دور جا رہا ہے۔‘

لیکن جیسے ہی اس نے اپنا رخ تبدیل کیا، شارک نے غوطہ بھی کھایا۔ اور جیسے ہی لائف گارڈز نے حسیم کے بھائی کو سمندر سے نکالا، اس بڑی سفید شارک نے ایک نئے شکار کا تعاقب کیا۔

حسیم بتاتے ہیں ’وہ میرے بالکل سامنے تیر رہی تھی، وہ میرے اتنے قریب تھی کہ میں اس کے جسم کو اپنے ہاتھوں سے چھو سکتا تھا۔‘

’یہ وہ لمحہ تھا جب بالکل افراتفری پیدا ہوچکی تھی۔ میں چلا رہا تھا، چھوٹی کشتیوں پر سوار لائف گارڈز کی سرسری نگاہ پڑی اور خوف آسمان کی بلندیوں کو چھو گیا۔‘

’اس کے بعد میں یہ جانتا ہوں کہ شارک اپنا منہ کھولتی ہے اور آپ اس کے بڑے بڑے جبڑے دیکھ سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption حسیم بتاتے ہیں ’شارک کے حملے کے نتیجے میں مختلف ممالک دیکھنے اور مختلف لوگوں سے ملنے کے موقع ملا‘

ایک لمحے کے لیے حسیم میں امید پیدا ہوئی کہ وہ اس جانور کے اوپر اپنی ٹانگ رکھ کر اس پر سوار ہوجائیں اور ’شارک مجھے کنارے تک لفٹ دے کر چھوڑ آئے، اور ہم پھر ہم جدا ہو جائیں۔ مگر نہیں ایسا نہیں ہوا۔‘

’میری ٹانگ آگے بڑھنا نہیں چاہتی تھی اور میں سمجھ نہیں سکتا تھا کہ ایسا کیوں تھا‘، انھوں نے مزید بتایا ’تب میں نے دیکھا کہ میری آدھے سے زیادہ ٹانگ شارک کے منہ میں پہنچ چکی ہے۔ مجھے بالکل احساس نہیں ہوا جب اس نے اس کو دبوچا۔‘

’منہ میں گڑیا‘ کی طرح جھنجھوڑتی ہوئی سفید شارک کنارے سے واپس مڑی اور انہیں نیچے کی جانب کھینچا۔

شارک کے دانتوں میں پھنسی ہوئی پنڈلی کو آزاد کرانے کے لیے حسیم نے جانور کے سر پر دوسری ٹانگ سے ضرب لگائی۔ ان کے حملہ آور نے انہیں پھر جھنجھوڑا اور انھوں نے ‘کڑک کی آواز‘ سنی۔

‘بوم۔ میری ٹانگ کٹ کر دوٹکڑے ہوگئی۔ مجھے کچھ بھی محسوس نہیں ہوا‘ حسیم نے بتایا۔ پانی کے اندر خاصی دیر رہنے کے بعد ہوا کی شدید ضرورت کے پیش نظر اور شارک کے کچلنے سے آزاد ہونے کے بعد حسیم سطح کے اوپر آئے۔ انھوں نے پانی کے اوپر اس امید کے ساتھ ہاتھ مارے کہ ان کے لائف گارڈ ساتھی چھپاکے دیکھ لیں گے۔

انھوں نے بتایا ’میں نے خود کو بہت تھکا ہوا محسوس کیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرا جسم مزید تیر نہیں سکتا۔ جیسے ہی میں نے ڈوبنا شروع کیا، میں ایک انجن کی آواز اپنی جانب بڑھتے ہوئے سن سکتا تھا۔‘

حسیم نے چھوٹی کشتیوں کے سیاہ پیٹ پانی کی سطح پر تیرتے ہوئے دیکھے اور کوئی ایک جانب جھکا ہوا تھا۔

انھوں نے بتایا ’میں نے اپنے بھائی کا میری جانب جھکا ہوا بازو دیکھا۔ جیسے ہی میں اوپر آیا اس نے مجھے جکڑ لیا۔‘

حسیم بچ گئے لیکن شارک نے ان کی دائیں ٹانگ گھنٹے سے نیچے تک کھا لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Achmat Ahssiem
Image caption اچمت حسیم نے لندن پیرا اولمپکس میں 100 میٹر بٹرفلائی مقابلوں میں میڈل جیتا

ہسپتال میں اپنے مستقبل کے بارے میں غورو فکر کرتے ہوئے حسیم تیراکی کے مقابلوں میں حصہ لینے کی جانب مائل ہوئے اور انھوں نے جلد ہی خود کو پول میں ریکارڈز توڑتے ہوئے پایا۔

اپنے ٹانگ کھونے کے دو سال بعد وہ پیرا اولمپکس 2008 میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کےلیے بیجنگ کی جانب محوپرواز تھے۔

انھوں نے بتایا ’یہ بالکل حیرت انگیز ہے۔‘ اس کے بعد انھوں نے مختلف مواقعوں پر جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی اور لندن پیرا اولمپکس میں 100 میٹر بٹرفلائی مقابلوں میں میڈل جیتا۔

وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس نئے راستے پر ڈالنے کے لیے وہ شارک کے شکر گزار ہیں۔

حسیم بتاتے ہیں ’شارک کے حملے کے نتیجے میں میں دنیا بھر گھومنے کے قابل ہوا، مختلف ممالک دیکھنے اور مختلف لوگوں سے ملنے کے موقع ملا۔

’اور میں نے سوچا، یہ سب کچھ مجھے شارک کے حملے کی وجہ حاصل ہوا ہے، مجھے شارکس کو کچھ واپس لوٹانا ہوگا۔ اور میں نے سمندری حیات اور شارکس کا محافظ بننے کا فیصلہ کیا۔

’بچپن میں میں ہمیشہ جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرنا چاہتا تھا اور شارک نے مجھے یہ موقع فراہم کیا۔

’لیکن اسی دوران مجھ میں یہ احساس پیدا ہوا کہ شارکس بھی مشکل کا شکار ہیں۔ اور شارکس کے بارے میں بات کرنے کے لیے ان کے شکار سے بچ جانے والے سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے؟‘

اسی بارے میں