’طالبات کی روانگی پر برطانوی سکیورٹی ادارے جواب دہ ہیں‘

Image caption سکول انتظامیہ اس دعوے کو مسترد کررہی ہے کہ طالبات شام جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوئیں

لندن سے تعلق رکھنے والی تین طالبات کو شدت پسندوں کا ساتھ دینے کے لیے شام جانے پر مبینہ طور پر اکسانے والی سکاٹش لڑکی کے خاندان نے ان طالبات کے اس اقدام کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی قرار دیا ہے۔

گلاسگو سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ اقصیٰ محمود 2013 میں ’جہادی دلہن‘ بننے کے لیے شام چلی گئی تھیں اور اطلاعات کے مطابق وہ گذشتہ ہفتے لندن سے ترکی کا سفر کرنے والی تین لڑکیوں میں سے ایک سے رابطے میں تھیں۔

’پلیز شام میں داخل نہ ہونا، گھر لوٹ آؤ‘

برطانوی پولیس کے مطابق 15 سالہ شمیمہ بیگم، 16 سالہ قدیضہ سلطانہ اور 15 سالہ عامرہ عباسی منگل کو لندن سے استنبول کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔

حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی اصل منزل شام ہے جہاں وہ شدت دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر سکتی ہیں۔

اقصیٰ محمود کے والدین نے کہا ہے کہ اگر ان کی بیٹی نے ان لڑکیوں کو دولتِ اسلامیہ کے لیے بھرتی کیا ہے تو ’یہ انتہائی خوفناک اور اشتعال انگیز بات ہے۔‘

اقصٰی کے والدین کی جانب سے ان کے وکیل کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا گیاہے کہ اقصٰی کے بعد مزید تین برطانوی لڑکیوں کی شام روانگی پر برطانوی سکیورٹی ایجنسییاں جواب دہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ برطانوی پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اگر تینوں طالبات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نظر رکھتیں تو انھیں مبینہ طور پر جہاد کے لیے جانے سے روکا جا سکتا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ’گذشتہ ایک سال جب سے اقصٰی غائب ہوئیں سماجی رابطوں پر ان کی نگرانی کی جا رہی تھی، لیکن مبینہ طور پر ان لڑکیوں کے اقصٰی سے رابطے کے باوجود وہ انھیں شام پہنچنے کے لیے برطانیہ سے ترکی جانے سے روکنے میں ناکام ہوئے۔‘

والدین نے کہا ہے کہ ’دولتِ اسلامیہ کے خلاف پرجوش حکومتی انداز کے باوجود وہ بچوں کو اس تنظیم میں شامل ہونے کے لیے باہر جانے سے روکنے کا بنیادی اقدام نہیں کر سکے۔‘

اقصٰی کے والدین نے ان لڑکیوں کو بھی براہ راست پیغام بھجوایا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’ تم اپنے عمل کی وجہ سے ہر روز اپنے خاندان کو مار رہی ہو، وہ تم سے رک جانے کی التجا کر رہے ہیں، اگر تم ان نے کبھی ان سے محبت کی تھی۔‘

دوسری جانب مبینہ طور پر شام داخلے کے لیے ترکی پہنچنے والی ان تینوں لڑکیوں کی ہم جماعت طالبہ نے آئی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ ’وہ تینوں جو بھی کرنا چاہتی تھیں اس پر ثابت قدم رہتی تھیں،آپ بحث کر کے ان کی رائے کو بدل نہیں سکتے تھے۔‘

16 سالہ طالبہ نے مزید بتایا کہ وہ تینوں محنتی اور سمجھدار طالبات تھیں اور وہ نہیں سمجھتی کہ ایسا کچھ ہوا ہوگا۔

پولیس نے تینوں طالبات کی تلاش کے لیے ایک ہنگامی اپیل جاری کی ہے اور کہا ہے کہ ’وہ انتہائی خطرے کا شکار ہو سکتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ضرورت ہے کہ ہر سکول ہر یونیورسٹی، ہر کالج، تمام کمیونٹی اس کردار کو جانےجو اسے ادا کرنا ہے

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ترکی جانے والی ان تینوں طالبات سے دسمبر میں اس وقت پوچھ گچھ کی گئی تھی جب انھیں کے سکول کی ایک طالبہ شام چلی گئی تھیں۔

تاہم اس وقت ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی جس سے انھیں یہ پتہ چل سکتا کہ یہ طالبات بھی خطرے میں ہیں اور اب یہ خبر ان کے لیے حیرت کا باعث ہے۔

سخت اقدامات ضروری

ادھر برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے بیان میں کہا ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف پولیس اور سرحدی فورس کے ساتھ مل کر نہیں لڑی جا سکتی اس کے لیے معاشرے اور تعلیمی اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

’اس کے لیے ضرورت ہے کہ ہر سکول ہر یونیورسٹی، ہر کالج، تمام کمیونٹی اس کردار کو جانے جو اسے ادا کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں لوگوں کے ذہنوں کو عقیدے کی بِنا پر دردناک موت کے زہر سے روکنا ہوگا۔

برطانوی ایوانِ نمائندگان کمیٹی میں امورِ داخلہ کے چیرمین کیتھ واز نے بھی اس ضرورت پر زور دیا ہے کہ مستقبل میں بیرون ملک جانے والوں کی مزید سخت نگرانی کی جائے۔

انھوں نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ شام اور عراق کی جانب سفر کرنے والوں سے متعلق درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے ترکی کے ساتھ رابطوں کو مزید موثر بنایا جائے۔

اسی بارے میں