یونان معاہدہ: ’ اصل مشکلات ابھی آنے کو ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیرِ اعظم کے لیے ایک بڑی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ انھوں نے اس وعدے کے ساتھ انتخاب جیتا تھا کہ وہ بجٹ میں کٹوتیوں کو کم کریں گے

یونانی حکومت معاشی اصلاحات کی اس فہرست پر کام کر رہی ہے جو اسے پیر تک اپنے قرض دینے والے اداروں اور ممالک کو جمع کروانی ہے اور اسی دوران ملک کے وزیرِ اعظم ایلیکس تسیپرس نے خبردار کیا ہے ابھی اصل مشکلات آنے کو ہیں۔

اس معاہدے کے تحت یونان پر لازم ہے کہ وہ اپنی معاشی اصلاحات کی فہرست پیر تک جمع کروانے کے علاوہ منگل تک اپنے قرض خواہوں سے اس معاہدے کی منظوری حاصل کرے۔

یونانی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے لڑائی جیتی ہے ، جنگ نہیں۔‘

اس معاہدے کو وزیرِ اعظم کے لیے ایک بڑی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ انھوں نے اس وعدے کے ساتھ انتخاب جیتا تھا کہ وہ بجٹ میں کٹوتیوں کو کم کریں گے۔

یوروزون میں شامل یورپی ممالک نے جمعے کو یونان کو مزید چار ماہ کے لیے مالی امداد کی فراہمی کے معاہدے کی منظوری دی ہے۔

دنیا بھر کے بازارِ حصص نے اس معاہدے پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکہ میں وال سٹریٹ پر اس یقین دہانی کے بعد کہ یونان کم از کم چار ماہ تک یوروزون کا حصہ رہے اور آئندہ ہفتے دیوالیہ نہیں ہوگا، حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یونان کا بیل آؤٹ پیکیج 28 فروری کو ختم ہو رہا تھا۔

نامہ نگاروں کے مطابق یونان کو اس توسیع کے حصول کے لیے بدلے میں بہت سی رعایت دینی پڑی جبکہ یونانی وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ دوطرفہ طور پر فائدہ مند معاہدہ ہے۔

برسلز میں ہونے والے مذاکرات میں یوروزون کے وزرائے خزانہ نے یونانی حکام سے بات چیت کے بعد جمعے کو معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔

یورپی ممالک کی جانب سے مذاکرات کی سربراہی ہالینڈ کے وزیِر خارجہ ہیروم دیسیلبلوم نے کی۔

یونان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بعد جمعے کی شب پریس کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ’ نتیجہ بہت مثبت رہا، میرے خیال میں آج شب اعتماد کی بحالی کی جانب پہلا قدم اٹھایا گیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اعتماد پیدا ہونے کی نسبت ختم جلدی ہوجاتا ہے۔‘

اس موقع پر یونان کے وزیرخارجہ یانس یاروفاکس کا کہنا تھا کہ معاشی اصلاحات کی فہرست کو تیار کرنے کے لیے پیر تک دی گئی مہلت سے قبل دن رات کام کریں گے۔

تاہم اب بھی یہ خدشہ ہے کہ اگر یونان کی جانب سے پیش کی جانے والی معاشی اصلاحاتی فہرست پر قرض دینے والے حکام مطمئن نہ ہوئے تو معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔

یونانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ چار ماہ کے عرصے میں وہ کوشش کریں گے کہ یورپ اور آئی ایم ایف کے ساتھ ان کے تعلقات نئے سرے سے پروان چڑھیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انھوں نے تصدیق کی کہ اگر یونان کی جانب سے پیش کردہ معاشی اصلاحات کو مسترد کردیا گیا تو ڈیل ناکام ہو جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption آئی ایم ایف کی سربراہ نے جمعے کو یونان اور جرمنی کے میبین ہونے والے مذاکرات میں بھی شرکت کی

بی بی سی کی نامہ نگار لِنڈا یو کہتی ہیں کہ اگرچہ یونان کو تھوڑی سی کامیابی مل گئی ہے لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا حکومت اس معاہدے سے عوام کو مطمئن کر پائے گی۔

بی بی سی کے شعبہ معاشیات کے مدیر اعلیٰ روبرٹ پیسٹن کہتے ہیں کہ یونان اور جرمنی خطرے کی آخری حد سے واپس لوٹ آئے ہیں تاہم یہ واضح ہونے میں کہ معاشی بحران سے دوچار یونان دوبارہ مستحکم ہو سکے گا کئی ماہ تک سخت مذاکرات کے دور سے گزرنا ہوگا۔

یونان کی جانب سے پیر کو طور پر پیش کیے جانے والے معاشی اصلاحات کی فہرست کی منظوری رواں سال اپریل تک ملک کےمعاشی انتظام کے لیے مذاکرات کی بنیاد فراہم کرےگی۔

ادھر آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ نے یونان اور یوروزون کے درمیان ہونے والے معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم خوش ہیں کہ حقیقی طور پر کام شروع ہوگیا ہے۔‘

یاد رہے کہ یونان کے قرضوں کا حالیہ پروگرام 28 فروری کو ختم ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں