سڈنی کیفے حملہ: ’ہاٹ لائن پر ہارون کے بارے میں اطلاع آئی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لنٹ کیفے حملے میں حملہ آور سمیت تین افراد ہلاک ہوئے

آسٹریلیا میں حکام کا کہنا ہے کہ سڈنی کے کیفے میں 16 دسمبر کو ہونے والے حملے سے چند دن قبل سکیورٹی ہاٹ لائن پر ایک خود ساختہ مولوی کے بارے میں 18 کالز تو کی گئیں لیکن ان میں سے کسی میں فوری حملے کے بارے میں بات نہیں کی گئی تھی۔

آسٹریلوی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کالز ہارون مونس نامی شخص کے فیس بک پر توہین آمیز پیغامات کے بارے میں تھیں۔

ہارون نے ہی 16 دسمبر کو لنٹ کیفے میں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا تھا اور یرغمالیوں کی بازیابی کے آپریشن میں وہ خود اور دو یرغمالی ہلاک ہوگئے تھے۔

رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ کیفے کے واقعے سے ایک روز پہلے تک ہارون مونس کی کسی کال سے یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ کیفے میں حملہ کرنے والے تھے۔

یاد رہے کہ 16 دسمبر کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے ایک ایرانی ہارون مونس نے ایک کیفے میں موجود متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ حملہ آور کی جانب سے فائرنگ کے بعد وہاں کمانڈو آپریشن کیا گیا جس میں متعدد یرغمالی رہا تو ہو گئے تاہم حملہ آور سمیت تین افراد ہلاک بھی ہوئے۔

عفریت

ادھر آرسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا ہے کہ اس نظام نے ہمیں نیچا دکھایا ہے۔ انھوں نے لنٹ کیفے میں حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے قانون اور امیگریشن نظام میں تبدیلیوں پر سوچ رہے ہیں۔

’واضح طور پر اس عفریت کو ہمارے سماج میں نہیں ہونا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آسریلیا میں حال ہی میں دہشت گردی کے خلاف قانون کی منظوری دی گی تھی

ان کا یہ بیان نیوساؤتھ ویلز حکام اور وفاقی حکومت کی جانب سے دسمبر میں لِنٹ کیفے پر حملے کی 90 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی رپوٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملے سے تین روز قبل یعنی 9 سے 12 دسمبر کے دوران ہارون مونس کے فون کالز کی چیکنگ ’نیشنل سکیورٹی ہاٹ لائن‘ کے ذریعے کی گئی جس سے 18 کالز کا پتہ چلا ہے۔

تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آسٹریلیا کی پولیس اور سکیورٹی حکام کے مطابق مونس کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک اکاؤنٹ پر کوئی ایسا مواد نہیں جس سے حملے کے بارے میں کچھ اشارہ مل سکے۔

حکام نے کہا ہے کہ اس وقت دستیاب معلومات کے مطابق ہارون مونس انسدادِ دہشت گردی سے متعلق 400 اہم تحقیقات کی فہرست میں سے باہر آتے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ حملہ آور ہارون مونس نے 996 1 میں ایران سے آسٹریلیا ہجرت کی تھی اور سیاسی پناہ کی درخواست کے بعد انھیں 2004 میں یہاں کی شہریت ملی تاہم وہ قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے کئی مقدمات میں گرفتار بھی ہوئے۔

ان پر اپنی سابقہ بیوی کو قتل کرنے اور جنسی زیادتی کے درجنوں مقدمات بھی درج تھے جس میں وہ ضمانت پر رہا ہوئے۔

حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ ہارون مونس جو کہ خودساختہ مولوی ہیں ماضی میں مذہبی تبلیغ میں بھی ملوث رہے ہیں تاہم اب تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ان کے ان اقدامات کا بین الاقوامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے کوئی تعلق ہے۔

خیال رہے کہ اکتوبر میں آسٹریلیا کی پارلیمنٹ نے نئے انسدادِ دہشت گردی قوانین منظور کیے تھے جن کا مقصد آسٹیلوی شہریوں کو بیرون ملک لڑنے سے روکنا تھا۔

اسی بارے میں