دو برطانوی وزرا کی خفیہ فلمبندی، ’الزامات بے بنیاد ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption دونوں وزیروں جیک سٹرا اور سر میلکم ریفکنڈ نے خود پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی ہے

دو برطانوی وزرائے خارجہ کی خفیہ طور پر فلمبندی کی گئی ہے جس میں بظاہر انھیں ہزاروں پاؤنڈ کے بدلے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

وزرائے خارجہ جیک سٹرا اور سر میلکم ریفکنڈ پر یہ الزامات دا ٹیلیگراف اخبار اور چینل فور کے ذریعے کیے جانے والے خفیہ آپریشن کے بعد سامنے آئے ہیں۔

اس فلم کو بنانے والوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود کو ایک نقلی چینی کمپنی کے اہلکار کے طور پر پیش کیا تھا جبکہ دونوں وزیروں نے خود کو معیار طے کرنے والے پارلیمانی کمشنر کے طور پر بیان کیا۔

تاہم دونوں وزرا نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

اس ویڈیو میں جیک سٹرا کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ کس طرح انھوں نے ’ریڈار میں رہتے ہوئے‘ ایک کمپنی کے لیے یورپی یونین کے ضابطے میں تبدیلی کے لیے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کیا تھا۔ اس کے بدلے اس کمپنی نے انھیں 60 ہزار پاؤنڈ سالانہ ادا کیا تھا۔

معاوضے کے معاملے پر سٹرا کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا: ’عام طور پر اگر میں کوئی تقریر کروں یا کچھ اور تو میں ایک دن کا پانچ ہزار پاؤنڈ لیتا ہوں۔‘

دوسری جانب سرمیلکم کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ دنیا بھر میں تمام برطانوی سفیروں تک ’کارآمد رسائی‘ کا انتظام کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ابھی تک ڈاؤننگ سٹریٹ سے اس بابت کوئی بیان نہیں آیا ہے

کنزرویٹیو پارٹی کے کنزنگٹن سے رکن پارلیمان اور پارلیمانی انٹیلیجنس اور سکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین کو یہ بھی کہتے سنے گیا: ’میں اپنا کام کرتا ہوں، یعنی مجھے کوئی تنخواہ نہیں دیتا۔ مجھے اپنی آمدنی خود کمانی پڑتی ہے۔ نصف دن کے کام کے لیے میں پانچ سے سات ہزار پاؤنڈ کے درمیان لیتا ہوں۔‘

بی بی سی کے سیاسی نامہ نگار رابن برینٹ نے بتایا کہ اس بابت مکمل جانچ میں کئی ماہ لگتے سکتے ہیں لیکن اس درمیان سٹرا کو ان کی اپنی درخواست پر لیبر پارٹی سے معطل کر دیا گيا ہے جبکہ سر میلکم کو معطل نہیں کیا گیا ہے۔

بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام سے سر میلکم نے کہا کہ ’اس میں شرم محسوس کرنے جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔‘

اسی بارے میں