لندن کی تین لڑکیوں کی تلاش میں برطانوی پولیس ترکی میں

Image caption سکول انتظامیہ اس دعوے کو مسترد کررہی ہے کہ طالبات شام جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوئیں

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے ترکی جانے والی لندن کی تین لڑکیوں کی تلاش کے لیے اہلکار ترکی پہنچے ہیں۔

برطانوی پولیس کے مطابق 15 سالہ شمیمہ بیگم، 16 سالہ قدیضہ سلطانہ اور 15 سالہ عامرہ عباسی منگل کو لندن سے استنبول کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔

’پلیز شام میں داخل نہ ہونا، گھر لوٹ آؤ‘

حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی اصل منزل شام ہے جہاں وہ شدت دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر سکتی ہیں۔

سکاٹ لینڈ یارڈ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ ترکی بھیجے جانے والے اہلکاروں کا کیا کردار ہو گا۔

تاہم سکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمان نے کہا ’برطانوی اہلکار ترکی کے حکام کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ترکی کے حکام ہماری تحقیقات میں مدد کر رہی ہے۔‘

یاد رہے کہ لندن سے تعلق رکھنے والی تین طالبات کو شدت پسندوں کا ساتھ دینے کے لیے شام جانے پر مبینہ طور پر اکسانے والی سکاٹش لڑکی کے خاندان نے ان طالبات کے اس اقدام کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی قرار دیا ہے۔

گلاسگو سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ اقصیٰ محمود 2013 میں ’جہادی دلہن‘ بننے کے لیے شام چلی گئی تھیں اور اطلاعات کے مطابق وہ گذشتہ ہفتے لندن سے ترکی کا سفر کرنے والی تین لڑکیوں میں سے ایک سے رابطے میں تھیں۔

اقصیٰ محمود کے والدین نے کہا ہے کہ اگر ان کی بیٹی نے ان لڑکیوں کو دولتِ اسلامیہ کے لیے بھرتی کیا ہے تو ’یہ انتہائی خوفناک اور اشتعال انگیز بات ہے۔‘

اقصٰی کے والدین کی جانب سے ان کے وکیل کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا گیاہے کہ اقصٰی کے بعد مزید تین برطانوی لڑکیوں کی شام روانگی پر برطانوی سکیورٹی ایجنسییاں جواب دہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ برطانوی پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اگر تینوں طالبات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نظر رکھتیں تو انھیں مبینہ طور پر جہاد کے لیے جانے سے روکا جا سکتا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ’گذشتہ ایک سال جب سے اقصٰی غائب ہوئیں سماجی رابطوں پر ان کی نگرانی کی جا رہی تھی، لیکن مبینہ طور پر ان لڑکیوں کے اقصٰی سے رابطے کے باوجود وہ انھیں شام پہنچنے کے لیے برطانیہ سے ترکی جانے سے روکنے میں ناکام ہوئے۔‘

والدین نے کہا ہے کہ ’دولتِ اسلامیہ کے خلاف پرجوش حکومتی انداز کے باوجود وہ بچوں کو اس تنظیم میں شامل ہونے کے لیے باہر جانے سے روکنے کا بنیادی اقدام نہیں کر سکے۔‘

اقصٰی کے والدین نے ان لڑکیوں کو بھی براہ راست پیغام بھجوایا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’ تم اپنے عمل کی وجہ سے ہر روز اپنے خاندان کو مار رہی ہو، وہ تم سے رک جانے کی التجا کر رہے ہیں، اگر تم ان نے کبھی ان سے محبت کی تھی۔‘

اسی بارے میں