مصر میں جمہوریت نواز سرگرم کارکن کو پانچ سال سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وکلا صفائی نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے

مصر میں ایک عدالت نے جمہوریت نواز سرگرم کارکن اور بلاگر اعلیٰ عبدالفتاح کو غیر قانونی احتجاج اور ایک پولیس اہلکار پر حملے کے الزام میں پانچ سال سزا سنائی ہے۔

اس سے پہلے عبدالفتاح کو 15 سال کی سزا ہو چکی ہے لیکن گذشتہ برس ان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ عبدالفتاح کو 2011 کی حکومت مخالف تحریک کے دوران عام شہریوں پر مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف مہم چلانے کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی تھی۔

الجزیرہ کے صحافی محمد فہمی اور بہر محمد بھی اپنے مقدمے کی دوبارہ سماعت کے آغاز پر پیر کو اسی عدالت میں پیش ہوئے۔

دونوں صحافی ایک سال جیل میں بند رہنے کے بعد اسی مہینے کے شروع میں ضمانت پر رہا ہوئے تھے اور ان کی اگلی پیشی 8 مارچ کو ہوگی۔

صحافیوں پر غلط معلومات پھیلانے اور کالعدم اخوان المسلمین تنظیم کی مدد کرنے کے الزام ہے۔

اسی مقدمے میں شامل آسٹریلیا کے صحافی پیٹر گریسٹ کو پہلی فروری کو رہا کر کے آسٹریلیا بھیجوا دیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظموں کا کہنا ہے کہ صدر عبدالفتاح امام سیسی کی حکومت کی جانب سے صحافیوں پر لگائےگئے الزامات سیاسی ہیں اور ان کا مقصد ملک میں اختلاف رائے کو دبانا ہے۔

اسی مقدمے میں شامل دیگر افراد کو ایک سے تین سال تک کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

فیصلوں کے بعد کمرہ عدالت میں موجود کارکنوں کے حامیوں نے صدر سیسی کی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔

دوسری جانب وکلا صفائی نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں