’لڑکیاں سکول میں بنیاد پرستی کی جانب مائل نہیں ہوئیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption تینوں لڑکیاں لندن کے علاقے بیتھنل گرین میں واقع ایک اکیڈمی کی طالبات تھیں

شام جانے والی تین لڑکیوں کے سکول کے پرنسپل کا کہنا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ یہ لڑکیاں سکول میں بنیاد پرست نظریات کی جانب مائل ہوئیں۔

ان لڑکیوں کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ شام میں دولتِ اسلامیہ کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔

بیتھنل گرین اکیڈمی کے پرنسپل مارک کئیری نے کہا کہ طلبا اکیڈمی کے کمپیوٹرز پر فیس بُک یا ٹوئٹر تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں پولیس نے بتایا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ ان لڑکیوں کا بنیاد پرست نظریات کی جانب میلان اکیڈمی میں ہوا۔‘

برطانوی پولیس کے مطابق 15 سالہ شمیمہ بیگم، 16 سالہ قدیضہ سلطانہ اور 15 سالہ عامرہ عباسی منگل کو لندن سے استنبول کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ تین لڑکیوں کی تلاش کے لیے اس کے اہلکار ترکی پہنچے ہیں مگر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اُن کا کردار کیا ہو گا۔

یہ تینوں لڑکیاں جی سی ایس ای کرنے کے لیے مشرقی لندن کے ایک سکول میں داخل تھیں جو چھٹیوں کے بعد پیر کو کھُلا تھا۔

سکول کے ہیڈ ماسٹر کا کہنا ہے کہ سکول ان بچیوں کے لاپتہ ہونے پر ’صدمے اور دکھ‘ میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’صورتحال گذشتہ سال دمسبر میں لاپتہ ہونے والی ایک طالبہ کے بعد سامنے آئی ہے اور یہ کہ پولیس نے طالبات کی ساتھیوں سے بات چیت کی ہے اُس وقت اور اس کے بعد اب اور یہ بتایا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ لڑکیاں بنیاد پرستی کا شکار ہو رہی ہیں یا غائب ہونے کو تیار ہیں۔‘

ہیڈ ماسٹر نے مزید کہا کہ سکول کے باقی 1200 بچوں اور اساتذہ کے لیے سکول معمول کے مطابق جاری ہے تاہم پولیس اور بنیاد پرستی کے خلاف کام کنرے والے گروہوں کے ساتھ ’خصوصی ملاقاتوں کا پروگرام دستیاب ہے۔ مگر ہم سب کی ترجیح ان بچیوں کی باحفاظت واپسی ہے۔‘

لڑکیاں ترکش ایئرلائنز کی ایک لندن کے گیٹوِک ہوائی اڈے سے استنبول جانے والی پرواز پر سوار ہوئیں جنہیں ترکی کے لیے ویزا درکار تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption لڑکیوں کو آخری بار لندن کے گیٹ وِک ہوائی اڈے کے باہر دیکھا گیا جہاں سے وہ ترکش ایئر ویز کے ذریعے استنبول روانہ ہوئیں

یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایک لڑکی 17 سالہ شمیمہ نے اپنی بڑی بہن اقلیمہ کا پاسپورٹ سفر کے لیے استعمال کیا۔

برطانیہ کی سکیورٹی سروسز پر اس بات کے سامنے آنے کے بعد شدید تنقید کی گئی کہ برطانیہ جانے سے پہلے شمیمہ نے ٹوئٹر پر گلاسگو کی رہنے والی لڑکی اقصیٰ محمود سے رابطے میں تھیں جو 2013 میں گلاسگو سے ایک دولتِ اسلامیہ کے جنگجو سے شادی کرنے کے لیے شام گئی تھیں۔

اقصیٰ محمود کے خاندان کے وکیل کے مطابق اقصیٰ محمود کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی اُن کے برطانیہ جانے کے بعد نگرانی کی جاتی رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکام کو شمیمہ کے پیغامات نظر آ جانے چاہیے تھے اس سے پہلے کہ وہ اپنی دوسری دو دوستوں کو ساتھ ملاتیں اور اپنے پیچھے لگاتیں۔

ان لڑکیوں کے خاندانوں نے انہیں واپس لوٹ آنے کا کہا ہے۔

شمیمہ کی ایک بہن رینو بیگم کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اُن کی بہن شام اُس لڑکی کو لینے گئی ہیں جو دسمبر میں بیتھنل گرین اکیڈمی سے گئی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ شمیمہ اور اُن کی بہنیں ’نوجوان ہیں اور غیر محفوظ‘ ہیں اور اگر انہیں کسی نے رضامند کرنے کی کوشش کی ہوتی کہ وہ شام کے سفر پر نہ جائیں اور یہ ایک ’شیطانی اور ظالمانہ‘ حرکت ہے۔

امیرہ کے والد نے انہیں واپس آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سب اداس ہیں، آپ کو یاد کر کے ہمارے آنسو نہیں تھمتے براہِ مہربانی دوبارہ سوچیں اور شام نہ جائیں‘ اور آپ کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ آپ واپس آ جائیں۔

قدیضہ کی بہن حلیمہ خاتون نے کہا کہ ’اپنے دل میں موجود ہمت جمع کر کے ہم سے رابطہ کرو اور بتاؤ کہ تم محفوظ ہو اور ٹھیک ہو۔ ہمیں بس یہی کہنا ہے آپ سے۔‘

اسی بارے میں