’بات نسل کشی کی ہو تو ویٹو کا حق استعمال نہ کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایمنٹسی کے مطابق سنہ 2014 تنازعات اور تشدد کا شکار اقوام کے لیے ایک مصائب بھرا سال رہا ہے

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے معاملات میں ویٹو کا حق استعمال کرنے کی طاقت سے دستبردار ہو جائیں جہاں بات بڑے پیمانے پر مظالم کی ہو۔

اپنی سالانہ رپورٹ میں تنظیم نے کہا ہے کہ 2014 میں بہت سے مصائب پر عالمی ردعمل شرمناک رہا ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ امیر ممالک پناہ کے طالب افراد کو جائے پناہ فراہم نہ کر کے’گھناؤنے پن‘ کے مرتکب ہوئے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ 2015 میں بھی یہ صورتحال بدلتی نظر نہیں آ رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2014 تنازعات اور تشدد کا شکار اقوام کے لیے ایک مصائب بھرا سال رہا ہے اور عالمی رہنماؤں کو مسلح تنازعات کی بدلتی نوعیت کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔

ایمنٹسی کے سیکریٹری جنرل سلیل شیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل عام شہریوں کے تحفظ میں ’بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان، امریکہ، چین، فرانس، روس اور برطانیہ ویٹو کے حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ’سیاسی اور جیوپولیٹیکل مفادات کو شہریوں کے تحفظ کے مقصد پر ترجیح دیتے ہیں۔‘

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس لیے ضروری ہے کہ بڑے پیمانے پر قتلِ عام یا نسل کشی جیسے معاملات میں سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ویٹو کے حق سے دستبردار ہو جایا کریں۔

تنظیم کے مطابق اگر ایسا پہلے ہی ہو جاتا تو شام میں جاری تشدد کے تناظر میں اقوامِ متحدہ کی کارروائی روکی نہ جاتی۔ خیال رہے کہ روس سلامتی کونسل میں شامی حکومت کے خلاف کارروائی کی قراردادوں کو ویٹو کرتا رہا ہے۔

برطانوی حکومت نے تاحال ایمنسٹی کی جانب سے ویٹو کے حق سے دستبرداری کے مطالبے پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

تاہم مجموعی طور پر رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ ’برطانیہ مکمل طور پر اس موقف کا حامی ہے کہ سلامتی کونسل کو انسانیت کے خلاف جرائم اور بڑے پیمانے پر ہونے والے مظالم روکنے کے لیے لازماً میدان میں آنا چاہیے۔‘

Image caption حقوقِ انسانی کی تنظیم نے پناہ گزیوں کے بحران کے تناظر میں یورپی رہنماؤں کے کردار پر تنقید کی ہے

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ ’ایسے کسی موقع کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا جہاں ہم ایسے حالات میں کسی قرارداد کی منظوری روکنے کے لیے ویٹو کا حق استعمال کریں۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وولرج کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 میں شام، عراق، نائجیریا، جمہوریہ وسطی افریقہ اور دیگر ممالک میں تشدد اور مظالم کو دیکھتے ہوئے ایمنسٹی کی سالانہ رپورٹ غیر متوقع نہیں۔

ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق 2014 میں عالمی سطح پر مہاجرین اور پناہ گزینوں کا سنگین ترین بحران سامنے آیا اور صرف شام میں 40 لاکھ افراد جنگ کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے جبکہ ہزاروں تارکینِ وطن بحیرۂ روم میں ڈوبے۔

حقوقِ انسانی کی تنظیم نے اس بحران کے تناظر میں یورپی رہنماؤں کے کردار پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ’امیر ممالک کی جانب سے پناہ گزینوں کو جگہ دینے سے گزیر کی کوششیں ’ان لوگوں کو زندہ رکھنے کی کوششوں پر فوقیت لیتی دکھائی دیں۔‘

اسی بارے میں