سعودی بیویوں کو خوش شکل نوکرانیاں قبول نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب میں غیرملکی گھریلو ملازمین کے حقوق ایک درینہ مسلہ ہے

ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین گھر میں خوبصورت نوکرانیاں نہیں رکھنا چاہتیں۔

سعودی عرب کے اخبار ’سبق‘ کے مطابق ملک میں بھرتی کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ بیویاں نوکری دینے سے پہلے تصاویر دیکھنے کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ مراکش اور چلی سے آنے والی نوکرانیاں خوبصورت تو نہیں ہیں۔

اخبار نے کچھ ایسی خواتین سے بات کی ہے جنھوں نے ان ممالک سے تعلق رکھنے والی خوبصورت نوکرانیوں کو اس لیے نو کری دینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ وہ ان کے گھر میں مسائل پیدا کرسکتی ہیں۔

جدہ میں ایک بھرتی کرنے والی کمپنی کے ڈائریکٹر نے سبق اخبار کو بتایا کہ ’ کچھ بیویاں پہلے ہی ہم سے رابطہ کر کے کہہ چکی ہیں کہ اگر ان کے خاوند مراکش یا چلی سے نوکرانیاں بھرتی کرنا چاہتے ہیں تو ان کو گھر پر رکھنے سے پہلے وہ ہر حالت میں ان کی تصاویر دیکھنا چاہیں گی۔ان کی اہم شرط یہ ہے کہ یہ نوکررانیاں خوبصورت نہیں ہونی چاہی ہیں۔‘

خیال رہے کہ سعودی عرب میں ایک غیر ملکی کو نوکری پر رکھنے کے لیے پیسہ اور وقت درکار ہے۔ چلی جس کو حال ہی میں ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جہاں سے گھریلوں ملازمین کو بھرتی کیا جا سکتا ہے سے ایک ملازم کا ویزا حاصل کرنے کے لیے چھ ماہ اور 22 ہزار ریال لگتے ہیں۔

سعودی عرب میں غیرملکی گھریلو ملازمین کے حقوق ایک درینہ مسئلہ ہے۔

پچھلے سال کینیا نے بدسلوکی کے متعدد واقعات کے سامنے آنے کے بعد ملک میں سعودی عرب کے لیے بھرتی کرنے والی کمپنیوں کو کام کرنے سے روک دیا تھا اور انڈونیشیا کے نئے صدر نے خواتین کے بیرونِ ملک نوکرانیوں کے طور پر کام کرنے پر پابندی لگانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

اسی بارے میں