شام میں یرغمال عیسائیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یرغمال بنائے جانے والوں میں ذیادہ تعداد خواتین، نوجوانوں اور بچوں کی ہے

خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے شمال مشرقی شام میں یرغمال کیےگئے آشوری عیسائیوں کی تعداد میں پہلے سے اضافہ ہوا ہے۔

آشوری عیسائی برادری کے ذرائع نے بتایا ہے کہ پیر کو حسکہ صوبے میں تل تمر سے دولتِ اسلامیہ کے چھاپوں کے دوران یرغمال بنائےگئے لوگوں کی تعداد لگ بھگ 200 ہو سکتی ہے۔یرغمال بنائے جانے والوں میں زیادہ تر نوجوان ، خواتین اور بچے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار آشوری خاندان اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث اپنے گھروں کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

کرد اور عیسائی ملیشیا علاقے میں دولتِ اسلامیہ کے ساتھ لڑ رہی ہے۔

برطانیہ میں موجود شام سے متعلق انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والے ادارے کے مطابق عسکریت پسندوں کی جانب سے پیر کی صبح 12 دیہاتوں پر قبضے کے نتیجے میں 90 کے قریب شامی باشندوں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

آشورین فیڈریشن آف سویڈن کے افرام یابوب کا کہنا ہے کہ مقامی ذرائع کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد کم سےکم ساٹھ اور زیادہ سے زیادہ دو سو ہے جبکہ شام کی نیشنل کونسل نے ان کی تعداد ایک سو پچاس بتائی ہے۔

تاہم شامی فوجی کونسل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 350 سے 400 کے درمیان عام شہری یرغمال بنائےگئے ہیں جن میں سے کئی تو قتل کر دیے گئے ہیں۔

کینو گیبرئیل نے بتایا کہ شام کی فوجی کونسل کے خیال میں ان لوگوں کو عبدالعزیز نامی پہاڑی پر لے جایا گیا تاہم ان کی صحیح جگہ کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔

آشورین ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے اہلکار اسامہ ایڈورڈ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یرغمالیوں کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے مضبوط گڑھ لے جایا گیا ہے۔

ایڈورڈ نے مزید بتایا کہ ’ لوگوں کو حملے کی توقع تھی لیکن وہ امید کر رہے تھے کہ شامی فوج جو صرف تیس کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے یا امریکی اتحادی حملہ کر کے ان کی حفاظت کریں گے۔‘

اسی بارے میں