پاکستان کی امداد اور شکیل آفریدی کی رہائی، کانگریس میں بحث

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کانگریس میں پاکستان کے لیے نئے سال میں نوے کروڑ ڈالر کی امداد کی سفارش کی گئی ہے

امریکی کانگریس نے ایک بار پھر سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان کو دی جانے والی پچاس کروڑ ڈالر کی امداد پر پابندی لگانے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی طرف سے بین الاقوامی خارجہ امور کے لیے 2016 کے بجٹ میں پاکستان کے لیے تقریبا نوے کروڑ ڈالر کی سفارش کی گئی ہے۔ اس میں سے تقریبا 50 کروڑ ڈالر دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں مدد کے لیے ہے۔

اس بجٹ کو پاس ہونے کے لیے کانگریس کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے اور بدھ کو وزیرِ خارجہ جان کیری ایونِ نمائندگان میں ممبران کے سوالوں کا جواب دینے کے لیے پیش ہوئے تھے۔

کیلی فورنیا کی نمائندگي کرنے والے ممبر ڈنا روہر باكر نے کہا کہ ان کی نظر میں سب سے بڑا دوست وہ ہے جو امریکہ کے دشمن کا سب سے بڑا دشمن ہے لیکن جس شخص نے امریکہ کو اسامہ بن لادن کو پكڑوانے میں مدد کی وہ پاکستان کی ایک جیل میں بند پڑا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے باوجود انتظامیہ اس ملک کو پچاس کروڑ ڈالر دینے کا سوچ رہی ہے جس نے آفریدی کو جیل میں ڈال کر ہمارے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ امداد دے کر امریکہ یہی پیغام دے گا کہ کوئی اس کے لیے اپنی جان دے دے پھر بھی وہ اسے مرنے کے لیے چھوڑ دے گا۔

وزیرِ خارجہ جان کیری کا جواب تھا کہ وہ اس معاملے کو سابق پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور موجودہ وزیراعظم میاں نواز شریف کے سامنے اٹھا چکے ہیں اور آفریدی کو جیل میں بند رکھنا ناانصافی ہے اور اس اصول کے خلاف ہے جس کے لیے امریکہ کوشش کر رہا ہے۔

لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا ’اس مسئلے کا حل سفارتي طریقوں سے، مسلسل بات چیت کے ذریعے ہی نکل سکتا ہے۔‘

گذشتہ بجٹ میں بھی پاکستان کو ملنے والی رقم میں سے تقریباً تین کروڑ تیس لاکھ ڈالر کو تب تک روکنے کی شرط رکھی گئی تھی جب تک آفریدی کو رہا نہ کر دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا کہ اس مسئلے کا حل سفارتی طریقوں سے ہی ممکن ہے

آفریدی 23 برس کے لیے پاکستان کی جیل میں بند ہیں اور ان پر پاکستان میں شددت پسندوں کو مالی مدد پہنچانے کا الزام لگا تھا۔

بدھ کو بجٹ کے معاملے پر جان کیری کے ساتھ سوال و جواب کے دوران ایک دوسرے ممبر نے پاکستان میں سندھی زبان میں براڈ کاسٹنگ کی بھی گذارش کی۔

کیلی فورنیا کے بریڈ شرمن کا کہنا تھا کہ ’دنیا میں استحكام کے لیے پاکستانی عوام سے زیادہ اہم اور کوئی نہیں ہے۔ جس طرح کے سرپھری سوچ والے پاکستان سے نکلتے ہیں وہ اور کہیں سے نہیں نکلتے۔ اور اس عوام تک اگر پہنچنا ہے تو صرف اردو کافی نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں میں اوباما انتظامیہ کے اہلكار پاکستان کی تعریف کرتے نظر آئے ہیں اور افغانستان کے ساتھ بہتر ہوتے رشتوں کو بھی ایک مثبت پیش رفت کی طرح پیش کیا ہے لیکن دوسری جانب کانگریس میں پاکستان پر سخت تنقيد ہوتی رہی ہے۔

اسی بارے میں