ارجنٹائن: اسمبلی نے خفیہ ادارے کی تحلیل کی منظوری دے دی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’ہمیں انٹیلیجنس سروسز کو مزید شفاف بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ انھوں نے ملکی مفادات کے لیے کام نہیں کیا۔‘ - صدر کرچنر

ارجنٹائن کی کانگریس نے ملک کی انٹیلیجنس ایجنسی کو تحلیل کرنے کا بل منظور کر لیا ہے۔

اس بل کے تحت اب انٹیلیجنس سیکرٹریٹ کے بجائے ایک نئے وفاقی ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو کانگریس کو جواب دہ ہوگا۔

یہ تجویز گذشتہ ماہ خصوصی پراسیکیوٹر البرٹو نسمین کی ہلاکت کے بعد صدر کرسٹینا فرنینڈز ڈی کرچنر نے پیش کی تھی۔

انہوں نے ایک بدعنوان ایجنٹ پر نسمین کو غلط معلومات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا جو حکومت کے خلاف تفتیش کررہے تھے۔

مذکورہ بل کانگریس کے ایوان زیریں میں 71 کے مقابلے میں 131 ووٹوں سے منظور ہوا۔ یہ بل ایوان بالا میں بھی منظور کر لیا گیا ہے۔

چھ گھنٹے طویل جاری رہنے والی بحث میں حزب اختلاف کے اراکین نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ نئے قانون کے مطابق جاسوسی کی نگرانی کا عمل انٹیلیجنس سروسز سے اٹارنی جنرل کو منتقل ہو جائے گا۔

حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ وہ نئے قانون کے مطابق خفیہ معلومات اکٹھا کرنے کے معاملے میں فوج کے سربراہ سیزر میلانی کے کردار کے بارے میں بھی فکر مند ہیں۔

امید کی جارہی ہے کہ صدر کرسٹینا کچنر کے اس بل پر دستخط کرنے کے بعد 90 کے اندر نیا ادارہ قائم کر دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خصوصی پراسیکیوٹر البرٹو نسمین اپنے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے

صدر کرسٹینا کچنر کا کہنا ہے کہ ارجنٹائن کی انٹیلیجنس سروسز خارج المعیاد ہو چکی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کا ڈھانچہ وہی تھا جیسا 1983 میں ختم ہونے والی فوجی حکومت کے دور میں تھا اور اس کو احتساب کے دائرے میں لانے کی مزید ضرورت تھی۔

انھوں نے گذشتہ ماہ ٹی وی پر ایک تقریر کے دوران کہا تھا ’ہمیں انٹیلیجنس سروسز کو مزید شفاف بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ انھوں نے ملکی مفادات کے لیے کام نہیں کیا۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 51 سالہ خصوصی پراسیکیوٹر البرٹو نسمین 18 جنوری کو ایک کانگریسی کمیٹی کے سامنے گواہ کے طور پر پیش ہونے سے چند گھنٹے پہلے اپنے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔

وہ 1994 میں ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ایک یہودی مرکز ایمیا جیوش میں ہونے والے بم دھماکے کی تفتیش کر رہے تھے۔

البرٹو نسمین نے صدر کرسٹینا کرچنر اور وزیر خارجہ ہیکٹر ٹمرمین پر اس دھماکے میں ایران کے مبینہ کردار کی پردہ پوشی کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

تاہم صدر کرسٹینا کرچنر اس الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ایک خفیہ ایجنٹ نے حکومت کو بدنام کرنے کے لیے پراسیکیوٹر البرٹو نسمین کو گمراہ کیا تھا۔

اسی بارے میں