دولت اسلامیہ میں شمولیت، نیو یارک سے تین غیر ملکی گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بتایا جاتا ہے کہ اب تک 20000 سے زائد غیر ملکی عراق اور شام میں جاری جنگ میں شامل ہوچکے ہیں

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے بروکلن میں رہائشں پذیر تین غیر ملکیوں کو حراست میں لے لیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے تھے۔

زیرِحراست افراد میں سے دو نے شام کے سفر پر نہ جا سکنے کی صورت میں پولیس اور ایف بی آئی کے اہلکار کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

حکام کی توجہ ان غیر ملکیوں کی جانب تب مبذول ہوئی جب انھوں نے حالیہ مہینوں میں ازبک زبان کی ایک ویب سائٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک شخص نے امریکی صدر براک اوباما کو قتل کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

ازبکستان سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ عبدالرسول جورابوئیو اور 30 سالہ ابرار حبیبو اور کرغستان کے 19 سالہ اخرور سعیدہ خمیتو پر غیر ملکی شدت پسند تنظیم کی مدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اخرور سعیدہ کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ترکی جانے کی غرض سے طیارے میں سوار ہونے والے تھے۔

وفاقی استغاثہ کے مطابق عبدالرسول جورابوئیونے اگلے ماہ استنبول پہنچنے کے لیے ہوائی ٹکٹ خریدا تھا۔

بروکلن کے ہی رہائشی تیسرے زیرِ حراست غیر ملکی ابرار حبیبو کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ شام کی جہاد میں حصہ لینے کے لیے خمیتو کی مالی مدد کر رہے تھے۔

نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کمشنر ولیم بریٹن نے بھی ان گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔

’ایک ایسے تنہا شخص کے بارے میں تشویش ہے جو کبھی بھی مشرق وسطیٰ نہیں گیا اور متاثر ہو کر کچھ کرنا چاہتا ہے۔‘

یاد رہے کہ امریکہ میں غیر ملکی جنگجوگروہوں کے ساتھ شامل ہونے کا ارادہ رکھنے والے 20 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے جن میں سے زیادہ تر تعداد شام میں مصروف عمل شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونا چاہتی تھی۔

ایف بی آئی کے مطابق خمیتو حبیبو کے لیے کام کرتے تھے جو مختلف شہروں میں موبائل ٹھیک کرنے کی دکانیں چلاتے ہیں۔

عدالت میں پیش کی جانے والی دستاویزات کے مطابق عبدالرسول جورابوئیو نے ازبک زبان کی ویب سائٹ پر لکھا تھا کہ ’میں امریکہ میں ہوں مگر ابھی میرے پاس ہتھیار نہیں ہیں۔ لیکن یہاں رہتے ہوئے بھی خود کو اچھے کام میں شہید کیا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’میں کہہ رہا ہوں کہ اوباما کو گولی مارو اور پھر خود کو گولی سے مروا لو، کیا یہ چلے گا؟ اس سے بے دینوں کے دلوں میں خوف پیدا ہوگا۔‘

اعدادوشمار کے مطابق اب تک 20 ہزار سے زائد غیر ملکی عراق اور شام میں جاری جنگ کا حصہ بن چکے ہیں جن میں مغربی یورپ سے تعلق رکھنے والے باشندوں کی تعداد چار ہزار ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں برطانیہ سے ترکی جانے والی تین نوجوان طالبات کے بارے میں بھی پولیس نے اسی خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کی نیت سے ترکی گئی ہیں۔

اسی بارے میں