ایران سے جوہری مذاکرات پر نتن یاہو کا موقف ’غلط‘ ہے: کیری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سےاسرائیلی وزیراعظم کا موقف اپنے ملک کی خفیہ ایجنسی موساد سے مختلف ہے

امریکی صدر براک اوباما اور اسرائیلی وزیرعظم بن یامین نتن یاہو کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

بینجمن نتن یاہو نے امریکہ اور دیگر ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے جوہری ہھتیاروں کے حصول کے لیے ایران کو روکنے کی کوششیں ترک کر دی ہیں۔

تاہم امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نےاپنے بیان میں ایران کے جوہری معاملے پر اسرائیل کے وزیراعظم کی رائے کو غلط قرار دیا ہے۔

جان کیری نے کہا کہ امریکی صدر اس بات کو واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے نہیں دیں گے۔ انھوں کہا کہ اس لیے اسرائیلی وزیر اعظم کا موقف اس بارے میں درست نہیں ہے۔

امریکی رپبلکن پارٹی کے رہنماؤں نے نتن یاہو کو دعوت دی ہے کہ وہ امریکی کانگریس سے اگلے ہفتے خطاب کریں اور اس پر ڈیموکریٹک رہنما ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔

تاہم دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے معاملے کو سیاسی معاملہ بنانے سے خبردار کیا ہے۔

اس سے قبل قومی سلامتی کی مشیر سوزین رائس نے اپنے بیان میں اسرائیل کے وزیراعظم کے دورہ امریکہ کو ’باہمی تعلقات کے لیے تباہی‘ قرار دیا تھا۔

انھوں نے پی بی سی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ’چاہے دونوں ملکوں میں جو بھی پارٹی اقتدار میں ہو ہم بلاشبہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو مضبوط اور غیر متغیر چاہتے ہیں۔‘

Image caption امریکہ اور دیگر ممالک جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران کے ساتھ کئی ماہ سے مذاکرات کر رہے ہیں

’شاید درست نہیں‘

ادھر اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے امریکی حکومت اور سیاسی جماعتوں کے موقف کے جواب میں پانے والے نکتہ نظر کا دفاع کیا ہے۔

سوزن رائس کے بیان کے بعد اسرائیل میں اپنی تقریر میں انھوں نے کہا کہ امریکہ اور دوسرے ممالک تسلیم کرتے ہیں اگلے چند برسوں میں ایران بہت سے جوہری ہتھیاروں کو بنانے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں وائٹ ہاؤس اور امریکی صدر کی عزت کرتا ہوں لیکن اس معاملے پر کہ جس سے یہ پتہ چلے کہ ہم زندہ رہ سکیں گے یا نہیں، میں اسرائیل کو اس قسم کے خطرے سے بچانے کے لیے سب کچھ کروں گا۔‘

یاد رہے کہ امریکہ اس وقت ایران سے اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کر رہا ہے اور اس نے ایران پر مزید پابندیاں لگانے کی تجاویز اور مطالبات کو مسترد کیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے اسرائیلی وزیراعظم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ان کا نکتہ نظر یہاں درست نہ ہو۔

امریکی سینیٹرز سے خطاب میں جان کیری نے کہا کہ کہ تہران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات پر تنقید کرنا قبل ازوقت ہے۔

صدر نے واضح کیا ہے کہ ’میں اس سے مزید سختی نہیں کر سکتا، پالیسی یہ ہے کہ ایران جوہری ہتیھار حاصل نہیں کرے۔‘

اسی بارے میں