امریکہ: محکمۂ قومی سلامتی کی جزوی بندش کا خطرہ ٹل گیا

Image caption حزبِ اختلاف کی ریپبلکن پارٹی ماضی میں تین ہفتے کی توسیع کو مسترد کر چکی تھی

امریکی کانگریس کی جانب سے فنڈنگ میں ایک ہفتے کی توسیع کی منظوری کے بعد ملک کے محکمۂ قومی سلامتی کی جزوی بندش کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

سینیٹ سے منظوری کے بعد ایوانِ نمائندگان نے جمعے کو رات گئے اس مختصر مدتی بل کی منظوری دی۔

بل کی حمایت میں 357 ووٹ آئے جبکہ 60 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔

ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے کچھ ہی دیر بعد صدر اوباما نے بھی اس پر دستخط کر دیے۔

براک اوباما پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ وہ محکمے کی بندش سے بچنے کے لیے عارضی اقدامات کی حمایت کریں گے۔

اس بل کی منظوری سے یہ بات یقینی ہو گئی ہے کہ ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے ڈھائی لاکھ ملازمین کو اس دورانیے میں تنخواہیں ملتی رہیں گی جب تک محکمے کے لیے طویل المدتی فنڈنگ پر بحث جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ کا محکمۂ قومی سلامتی ملک کی سرحدوں، ہوائی اڈوں اور پانیوں کے تحفظ کا ذمہ دار ہے۔

حزبِ اختلاف کی ریپبلکن پارٹی ماضی میں تین ہفتے کی توسیع کو مسترد کر چکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ایسا اس وقت تک ممکن نہیں جن تک صدر اوباما اپنا متنازع امیگریشن منصوبہ ختم نہیں کر دیتے۔

ایوانِ نمائندگان میں مختصر مدت کی توسیع کے بل کی حمایت میں ڈیموکریٹ ارکان کی اکثریت نے ووٹ دیا جبکہ اس سے پہلے ان میں سے کئی تین ہفتوں کی توسیع کے مخالف دکھائی دیے تھے۔

امریکہ کا محکمۂ قومی سلامتی ملک کی سرحدوں، ہوائی اڈوں اور پانیوں کے تحفظ کا ذمہ دار ہے۔

اگر فنڈنگ میں توسیع کا بل منظور نہ ہوتا تو محکمے کا دو لاکھ ’ضروری‘ ملازمین کو بغیر تنخواہ کے کام کرنا پڑ سکتا تھا۔