کیا اوباما کو امریکہ سے پیار ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ویلنٹائنز ڈے کو گزرے ہوئے ایک دو ہفتے ہوگئے ہیں لیکن امریکہ میں آج کل ابھی بھی پیار و محبت کے ہی تذکرے ہیں اور وہ بھی صدر اوباما کے حوالے سے۔

اس سے پہلے کہ آپ کا ذہن بھٹک جائے، یہ معاملہ ملک سے محبت کا ہے۔ نیویارک کے سابق میئر روڈی جولياني نے گزشتہ دنوں بیان دیا ’میں جانتا ہوں کہ یہ کافی تلخ بات ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس صدر کو امریکہ سے محبت ہے۔ وہ آپ سے پیار نہیں کرتے، وہ مجھ سے محبت نہیں کرتے۔ جس طرح آپ اور ہم بڑے ہوئے ہیں اس ملک سے محبت کرتے ہوئے، اس طرح سے ان کی پرورش ہی نہیں ہوئی ہے۔‘

اس بیان سے سوشل میڈیا پر تو جو واویلا مچنا تھا وہ تو مچا ہی، ہفنگٹن پوسٹ نے تو اس بارے میں ایک سروے بھی کروا ڈالا کہ اوباما کو امریکہ سے محبت ہے یا نہیں۔ سینتالیس فیصد کا کہنا تھا کہ محبت ہے، باقی لوگوں نے کہا محبت نہیں ہے یا پھر وہ قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے۔

بالکل صحیح کہا ہے جولياني صاحب نے اور جو امریکی ان کی بات سے متفق ہیں وہ بھی درست ہیں۔

اب چار جولائی کی پریڈ میں، جب امریکہ اپنی آزادی مناتا ہے، یا پھر جنگ میں امریکیوں کی ہلاکت کی خبر پر اوباما کو آنسو بہاتے تو میں نے بھی نہیں دیکھا۔ نہ ہی میں نے جولياني صاحب کو دیکھا جنہوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد نیویارک کو سنبھالا اور خود کو سب سے بڑے وطن سے محبت کرنے والوں میں شمار کرنے لگے، کبھی جارج ڈبليو بش یا ڈک چینی کی قوم پرستي پر سوال اٹھاتے سنا۔

اب عراق میں بش اور چینی کے فیصلے سے کچھ امریکی ہلاک ہوگئے، ان کی حکومت کے دوران امریکی بینکوں میں اتنے بڑے گھوٹالے ہوئے کہ دنیا میں معاشی بحران آ گیا تو کیا ہوا۔

جس طرح بش سینے پر ہاتھ رکھ کر امریکی پرچم کے سامنے کھڑے ہوتے تھے اس کی بات ہی کچھ اور تھی، اوباما تو بالکل بے دل سے نظر آتے ہیں۔

تو جولياني صاحب جو کہہ رہے ہیں ٹھیک ہی کہہ رہے ہوں گے۔

اتنا ہی نہیں اوباما ایران سے مفاہمت کی کوشش کر رہے ہیں، کیوبا پر برسوں سے لگی پابندیاں ہٹا کر دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں، شام کے بشار الاسد کے خلاف ہیں لیکن ان پر بم نہیں برسا رہے ہیں، کیا کوئی بھی صدر جسے امریکہ سے محبت ہے وہ ایسا کر سکتا تھا؟

اور تو اور کچھ دنوں پہلے انہوں نے شدّت پسندی کے مسئلے پر ایک کانفرنس کی لیکن اسے اسلامی شدت پسندي نہیں کہا اور اوپر سے لیکچر دے ڈالا کہ شدت پسندي ہر مذہب میں رہی ہے۔ مصر میں جا کر کہہ دیا کہ امریکہ کو اسلامی دنیا کے ساتھ ایک نئی شروعات کرنی ہوگی جس میں ایک دوسرے کی عزت کی جائے، ایک دوسرے کا مفاد دیکھا جائے۔ کیا کوئی بھی صدر جسے امریکہ سے محبت ہے وہ ایسا کہہ سکتا تھا؟

انہوں نے سر عام یہ بھی کہہ دیا کہ امریکہ کو صحیح معنوں میں اگر دنیا کی رہنمائی کرنی ہے تو اسے مثال قائم کرنی ہوگی، سیاہ، گورے اور بھورے کا فرق ختم کرنا ہوگا، مرد اور خواتين کو ایک جیسی تنخواہ دینی ہوگی، جو لاکھوں لوگ برسوں سے امریکہ میں غیر قانونی طریقے سے رہ رہے ہیں ان میں سے بیشتر کو اپنانا ہوگا۔ کیا کوئی بھی صدر جسے امریکہ سے محبت ہے وہ ایسا کہہ سکتا تھا؟

یہ ساری باتیں امریکہ میں قوم پرستي کے فارمولے میں فٹ بیٹھتی ہی نہیں ہیں۔ آٹھ نو برس پہلے ایک سروے ہوا تھا جس میں پایا گیا کہ امریکیوں کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں وہ سب سے زیادہ قوم پرست ہیں۔ 2011 میں ایک اور سروے ہوا جس پایا گیا کہ سپین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے مقابلے میں امریکی یہ کہنے میں سب سے آگے ہوں گے کہ ہمارا کلچر دنیا میں سب سے بہتر ہے۔

اب ایسے ماحول میں اوباما جس طرح کی باتیں کر رہے ہیں تو لوگوں کو شک ہونا تو لازمی ہے۔

صحیح معنوں میں تو وہی صدر امریکہ سے محبت کرتا ہے جو ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ پر چڑھ کر گائے، "میں دنیا ہلا دوں گا ... تیری چاہت میں۔"

نيویارکر میگزین میں کالم لكھنےوالے اینڈی بورووتذ کی مانیں تو اوباما کو اپنے ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں کچھ یوں کہنا چاہئے: "مجھے امریکہ سے بے حد محبت ہے، اس کے جاہلوں سے بھی۔ امریکہ ہر طرح کے لوگوں پر مشتمل ہے، بچے بوڑھے، طاقتور، کمزور، دماغ والے اور بغیر دماغ والے۔ اور جب بغیر دماغ والے کچھ بولتے ہیں، بیوقوفوں والی حرکتیں کرتے ہیں تب بھی میں ان سے محبت کرتا ہوں کیونکہ وہ امریکہ کا حصہ ہیں۔ سچ مانیں تو بہت بڑا حصہ ہیں۔"

گاڈ بلیس امریکہ!

اسی بارے میں