عراق میں گذشتہ ماہ 1100 افراد ہلاک ہوئے: اقوامِ متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعدادوشمار میں عراق کے تیسرے حصے پر قابض شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد شامل نہیں ہیں

عراق میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کا کہنا ہے فروری میں ہونے والے تشدد میں 600 شہریوں سمیت کم سے کم 1,100 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

عراق میں اقوامِ متحدہ کے اسسٹنٹ مشن نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے عراق میں گذشتہ ماہ کے دوران 1,103 افراد ہلاک ہوئے جن میں 611 شہری تھے جبکہ باقی افراد کا تعلق عراق کی سکیورٹی افواج سے تھا۔

اقوامِ متحدہ کے بیان کے مطابق فروری میں ہونے والے تشدد میں کم سے کم 2,280 افراد زخمی ہوئے جن میں 1,353 شہری تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عراق میں رواں برس جنوری میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1,375 تھی۔

اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے بیان کے مطابق گذشتہ ماہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں سب سے زیادہ تشدد کے واقعات رونما ہوئے جس میں 329 شہری ہلاک اور 875 زخمی ہوئے۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد وشمار میں عراق کے ایک تہائی حصے پر قابض شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد شامل نہیں ہیں۔

عراق میں اقوامِ متحدہ کے ایلچی نکولے ملادیو نے ان ہلاکتوں کا الزام شدت پسند گروپ، حکومتی افواج اور حکومت کی حامی شعیہ ملیشیا پر عائد کیا ہے۔

نکولے ملادیو نے ایک بیان میں کہا عراق میں روزانہ کیے جانے والے حملوں میں شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ ملوث ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے حالیہ آزاد کروائے جانے والے علاقوں سے مسلح افراد کی جانب سے انتقامی قتل کی تشویشناک اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ایلچی نے عراقی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ مصالحت سے کام لیں کیونکہ دولتِ اسلامیہ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ان کے خلاف ایک فوجی حل ممکن ہے۔

خیال رہے کہ عراق میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کا یہ بیان ملک میں شیعہ ملیشیا کے چیک پوائنٹس اور دیگر عوامی مقامات پر ہونے والے سلسلہ وار حملوں میں 37 افراد کی ہلاکت کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔

اسی بارے میں