کانگریس سے خطاب کا مقصد اوباما کی بےعزتی نہیں: نتن یاہو

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جس طرح امریکی رہنما امریکی سکیورٹی کے حوالےسے متفکر رہتے ہیں اسی طرح وہ اسرائیلی بقا کےحوالے سے متفکر ہیں: نتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کا امریکی کانگریس سے خطاب کرنے کا مقصد امریکی صدر براک اوباما کی بے عزتی کرنا نہیں ہے۔

انھوں نے امریکی کانگریس سے خطاب سے قبل امریکی اسرائیلی لابی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ میں اسرائیل کے بارے میں رائے کو ہرگز منقسم نہیں کرنا چاہیں گے۔

ایوان نمائندگان کے سپیکر جان بوہینر نے اسرائیلی وزیر اعظم کو کانگریس سے خطاب کی دعوت دی ہے۔

اسرائیلی وزیر کے امریکی کانگریس سے خطاب کی خبر صدر براک اوباما کے سٹیٹ آف یونین خطاب سے ایک روز بعد آئی جس میں امریکی صدر نے کانگریس کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کیں تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکی صدر براک اوباما اسرائیلی وزیر اعظم سے ان کے دورہ امریکہ کے دوران نہیں ملیں گے کیونکہ یہ ملاقات اسرائیل میں انتخابات کے بہت قریب ہوگی۔

امریکی صدر براک اوباما اور اسرائیلی وزیرعظم بن یامین نتن یاہو کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بات چیت پر نالاں ہیں۔امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خطرات کو نشاندہی کریں جن سے اب بھی بچنا ممکن ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

نتن یاہو نے کہا کہ جیسے امریکی رہنما امریکہ کی سکیورٹی کے حوالے سے متفکر رہتے ہیں، اسرائیلی رہنما اپنے ملک کی بقا کے حوالے سے متفکر ہیں۔ نتن یاہو نے اس امید کا اظہار کیا کہ اختلاف رائے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات پر اثر انداز نہیں ہو گا۔

نتن یاہو نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کےتعلقات کی موت کی خبریں نہ صرف قبل از وقت ہیں بلکہ غلط ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکی مندوب سمنتھا پاور نے ایران کے ساتھ بات چیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو سیاسی رنگ نہیں دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ وہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم امریکہ پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انھوں نے جوہری ہھتیاروں کے حصول کے لیے ایران کو روکنے کی کوششیں ترک کر دی ہیں۔

تاہم امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نےاپنے بیان میں ایران کے جوہری معاملے پر اسرائیل کے وزیراعظم کی رائے کو غلط قرار دیا ہے۔

جان کیری نے کہا کہ امریکی صدر اس بات کو واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار نہیں کرنے دیں گے۔ انھوں کہا کہ اس لیے اسرائیلی وزیر اعظم کا موقف اس بارے میں درست نہیں ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اس وقت ایران سے اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کر رہا ہے اور اس نے ایران پر مزید پابندیاں لگانے کی تجاویز اور مطالبات کو مسترد کیا ہے۔

اسی بارے میں