’فرگوسن کی پولیس نسلی امتیاز روا رکھتی رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سفید فام پولیس افسر ڈیرن ولسن کے ہاتھوں ایک 18 سالہ سیاہ فام نوجوان کے قتل پر فرگیوسن سمیت ملک گیر پیمانے پر احتجاج ہوئے تھے

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ انھیں میسوری میں فرگوسن کی پولیس کے جانبدار ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

وزارت انصاف کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ پولیس محکمے کو بغیر کسی معقول شک و شبہ کے روکنے اور بغیر معقول وجہ کے گرفتار کرنے کے لیے مورد الزام ٹھہرا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ فرگوسن میں گذشتہ اگست میں ایک سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کے گولی مار کر ہلاک کیے جانے کے بعد شہری حقوق کے تحت کی جانے والی جانچ کے بعد یہ باتیں سامنے آئی ہیں۔

سفید فام پولیس افسر ڈیرن ولسن کے ہاتھوں ایک 18 سالہ سیاہ فام نوجوان کے قتل پر فرگوسن سمیت ملک گیر پیمانے پر احتجاج ہوئے تھے۔

دوسری جانب ایک علیحدہ رپورٹ میں یہ امید ظاہر کی جار رہی کہ پولیس افسر ڈیرن ولسن کو مسٹر براؤن کے گولی مارنے کے معاملے میں کسی شہری حقوق کی خلاف ورزی سے چھٹکارا مل جائے گا۔

پولیس کے جانبدار ہونے کے شواہد پولیس محکمے اور مختلف امریکی میڈیا سے بے نام بات چیت کے دوران سامنے آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ no credit
Image caption فرگیوسن میں افریقی نسل کے امریکیوں کی آبادی 67 فی صد ہے

بہرحال اس سلسلے میں سرکاری طور پر باضابطہ اعلان بدھ کو کیا جانے والا ہے۔

اس بارے میں پولیس محکمے اور شہر سے سرکاری ردعمل حاصل نہیں کیے جا سکے ہیں۔

میسوری کے گورنر کے دفتر کے ایک ترجمان نے بتایا: ’ہم نے رپورٹ نہیں دیکھی ہے اس لیے اس پر کچھ کہہ نہیں سکتا۔‘

کہا جاتا ہے کہ اس رپورٹ میں پولیس پر سیاہ فام افراد کے خلاف شدید قوت کے استعمال کا الزام لگایا جائے گا اور یہ شواہد پیش کیے جائیں گے کہ سیاہ فام ڈرائیورز بےوجہ روکے جاتے ہیں اور ان کی تلاشی لی جاتی ہے۔

Image caption سیاہ فام امریکیوں کے احتجاج کے بعد جانچ کا حکم ستمبر میں اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے دیا تھا

خیال رہے کہ فرگوسن میں افریقی نسل کے امریکیوں کی آبادی 67 فی صد ہےاور واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سنہ 2012 سے 2014 کے درمیان گرفتار ہونے والے لوگوں میں وہ 93 فی صد ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی سامنے آنے والا ہے کہ عدالتوں میں بھی نسلی امتیاز برتا جاتا ہے جہاں 68 فی صد سیاہ فام کے مقدمے کو خارج کیے جانے کا امکان رہتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق جانچ کرنے والوں نے یہ بھی پایا ہے کہ شہر کے بجٹ کو پورا کرنے کے لیے حکام جرمانے کی رقم کا استعمال کرتے ہیں۔

اگر حکام عدالت کے باہر اس معاملے کو طے کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو اس بارے میں وزارت انصاف شہری حقوق کا مقدمہ دائر کرسکتی ہے۔

اس جانچ کا حکم ستمبر میں اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے دیا تھا اور اکتوبر میں انھوں نے کہا تھا کہ فرگوسن کی پولیس میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں