یوکرین میں کوئلے کی کان میں دھماکے میں 30 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوکرین میں 2007 میں کوئلے کی کان میں حادثے کے نتیجے میں 100 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یوکرین میں واقع کوئلے کی ایک کان میں گیس دھماکے کے نتیجے میں 30 کان کن ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق بدھ کو کوئلے کی کان میں دھماکہ باغیوں کے زیرِ کنٹرول دونیتسک کے علاقے زسیادکو میں پیش آیا، کم سے کم 30 ہلاکتوں کے علاوہ زخمی کان کنوں کی تعداد 14 بتائی گئی ہے۔

ملک میں گذشتہ 80 سال کے عرصے میں کان کنی کے شعبے میں پیش آنے والا سب سے بدترین حادثہ اسی علاقے میں سنہ 2007 میں پیش آیا تھا جس میں 101 ہلاکتیں ہوئیں تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اب تک امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر نہیں پہنچ سکیں۔

دونیتسک پورے موسم سرما کے دوران حکومت اور علیحدگی پسندوں کے درمیان لڑائی کے زیرِ اثر رہا ہے۔

تاہم کان کنی کی یونین کے ایک اہلکار میخائل وولنیٹس نے مقامی ٹی وی چینل کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں وہاں لڑائی نہیں ہوئی۔

کان کنوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کے سربراہ کے حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 30 سے زائد ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ امدادی ٹیمیں زہریلی گیس کو ختم کرنے کے بعد کان میں حادثے کےمقام تک جائیں گی۔

یاد رہے کہ یوکرین میں جنگ چھڑنے سے قبل بھی کانوں میں حادثے معمول کی بات تھی جس کی وجہ ناکافی حفاظتی اقدامات دکھائی دیتے ہیں۔

ملک کی معیشت اپریل 2014 میں شروع ہونے والی لڑائی کے بعد نمایاں طور پر کمزور ہوئی ہے تاہم جنگ کے زیرِ اثر علاقوں میں کانوں میں معمول کے مطابق کام جاری ہے۔

اسی بارے میں