فیس بک پر پوسٹ نے جیل پہنچا دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption اگر رائن پیٹ کا جرم ثابت ہوگیا تو انھیں پانچ سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے

متحدہ عرب امارات میں فیس بک پر پیغامات پوسٹ کرنے پر ایک امریکی شہری کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ہیلی کاپٹر مکینک رائن پیٹ نے فلوریڈا میں قیام کے دوران گلوبل ایروسپیس لاجسٹکس سے، جہاں وہ ملازمت کرتے تھے، بیماری کی چھٹی کے معاملے پر تکرار کے بعد فیس بک پر ایک پوسٹ لکھی۔

فلوریڈا سے ابو ظہبی واپسی پر انھیں ملک کے سخت گیر سائبر قوانین کی خلاف ورزی کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا۔

ان کے مقدمے کی سماعت 17 مارچ سے شروع ہوگی اور اگر جرم ثابت ہوگیا تو انھیں پانچ سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

رائن پیٹ اور ان کی مالک فرم کے درمیان تنازع گذشتہ برس دسمبر میں شروع ہوا تھا جب انھوں نے اپنی کمر کے علاج کے لیے چھٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جب انھیں بتایا گیا کہ ان کی چھٹی میں توسیع نہیں ہوسکتی تو انھوں نے ابوظہبی میں واقع اس کمپنی کے بارے میں اپنے فیس بک کے صفحے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

اپنی پوسٹ میں رائن پیٹ نے گلوبل ایروسپیس لاجسٹکس کو ’پیٹھ پر وار کرنے والا‘ کہا اور دیگر کنٹریکٹرز کو اس کمپنی کے ساتھ کام کرنے کے بارے میں خبردار کیا۔ انھوں نے متحدہ عرب امارات میں گزر بسر کے بارے میں بھی شکایت کی اور وہاں کے مقامی لوگوں کے خلاف نسلی تعصب کا اظہار کیا۔

وہ ابوظہبی ملازمت سے استعفیٰ دینے کی غرض سے آئے تھے اور جیسے ہی وہ پہنچے پولیس نے انھیں قریبی تھانے میں رپورٹ کرنے کے لیے کہا۔ جہاں انھیں فیس بک پیغامات کے سکرین شاٹس دکھائے گئے اور انھیں بتایا کہ اس کمپنی نے ان کے خلاف متحدہ عرب امارات کے اس قانون کے تحت مقدمہ درج کروایا جس کے مطابق بہتان لگانے پر پابندی ہے۔

یہ قوانین 2012 میں متعارف کروائے گئے جس کے مطابق کسی ادارے یا فرد کی توہین کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال جرم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ pa
Image caption متحدہ عرب امارات کے قوانین کے مطابق کسی ادارے یا فرد کی توہین کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال جرم ہے

رائن پیٹ نے بتایا ’میں نے اس امر کی جانب کبھی غور نہیں کیا کہ مجھے اس لیے جیل جانا پڑ سکتا ہے کہ میں نے امریکہ میں رہتے ہوئے فیس بک پر کچھ لکھا تھا۔‘

گلوبل ایروسپیس لاجسٹکس نے تاحال اس معاملے پر مؤقف پیش نہیں کیا ہے۔

تاہم رائن پیٹ کی گرفتاری کی خبر آن لائن پھیلنا شروع ہوگئی ہے اور کچھ لوگوں نے گلوبل ایروسپیس لاجسٹکس کے فیس بک کے صفحے پر رائن پیٹ کے ساتھ برتے گئے رویے پر تنقید کی ہے۔

امریکی رکن کانگریس ڈیوڈ جولی، رائن پیٹ کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور انھوں نے اس مقدمے کو برخاست کروانے کے لیے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل سے رابطہ کیا ہے۔

ڈیوڈ جولی کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی تکلیف دہ ہے کہ پیٹ کو اس عمل پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو اس نے قانونی طور پر اپنے ملک میں کیا تھا۔‘

ڈیوڈ جولی متحدہ عرب امارات میں امریکی سفیر کی مدد کے لیے بھی ان سے ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں۔

رائن پیٹ کی منگیتر نے مقدمے کی قانونی چارہ جوئی کے لیے رقم اکھٹی کرنے کی آن لائن مہم کا آغاز بھی کر دیا ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارتخانے نے رائن پیٹ کی طبی معاونت اور قانونی مشاورت میں مدد کی ہے۔

رائن پیٹ کو 16 فروری کو گرفتار کیا گیا اور انھوں نے 10 دن جیل میں گزارے۔ فی الوقت وہ مقدمے کی سماعت تک ضمانت پر رہا ہیں۔

رائن پیٹ نے ایک امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں ان تمام لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جن کو میں نے اس میں دھکیلا۔‘

’یہ انتہائی شرمندگی کا باعث ہے، اور میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا کہ یہ سب ہوگا۔ میں اپنے جذبات کی روانی میں بہہ گیا۔‘