ملائیشیا:گمشدہ طیارے کی تلاش کب تک جاری رہے گی؟

تلاش تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption طیارے کی تلاش میں ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ہوئی لیکن پھر بھی تلاش کرنے والوں نے ہمت نہیں ہاری

ملائیشیا کا مسافر بردار طیارہ ایم ایچ 370 آٹھ مارچ 2014 کو کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے راستے میں غائب ہوگیا تھا۔

اس جہاز میں دو سو انتالیس افراد سوار تھے۔ جہاز کے ساتھ کیا ہوا، یہ کہاں غائب ہوگیا۔

یہ شاید دنیا کے سب سے پراسرار واقعات میں سے ایک ہے اور ان افراد کے لیے ہر دن ایک امتحان سے گزرنے کے مترادف ہے جن کے پیارے اس جہاز کے ساتھ ہی غائب ہوگئے۔

پانی کے اندر اس جہاز کی تلاش کے کام میں ہر طرح کی کوشش کی گئی لیکن جہاز کا پتہ لگانے میں کوئی کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور اب اس بات پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ یہ تلاش آخر کب تک جاری رکھی جا سکتی ہے؟

ایم ایچ 370 کی گمشدگی کی برسی پر بی بی سی اردو اس تلاش کے مستقبل پر ایک نظر ڈالنے کے لیے یہ سوال پوچھے گی کہ اس تلاش سے دنیا بھر کے شعبہ شہری ہوا بازی نے کیا سبق سیکھا ہے۔

ایم ایچ 370 طیارے نے کوالالمپور عالمی ہوائی اڈے سے آٹھ مارچ کو سنیچر کے دن مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح پونے ایک بجے اڑان بھری تھی اور اسے بیجنگ کے مقامی وقت صبح ساڑھے چھ بجے وہاں پہچنا تھا۔

ملائیشیا ائیر لائن کا کہنا ہے کہ جہاز کے اڑنے کے بعد ایک گھنٹے سے کم وقفے میں اس کا کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ جہاز کی جانب سے خطرے کا کوئی سگنل نہیں دیا گیا۔

جہاز کے عملے اور ائیر ٹریفک کنٹرول کے درمیان آخری بات چیت ایک بج کر انیس منٹ پر ہوئی۔ جہاز کے پائلٹ یا ساتھی پائلٹ کی طرف سے جو آخری بات سنی گئی تھی وہ تھی ’گڈنائٹ، ملیشئین تھری سیون زیرو۔‘

چند منٹوں کے بعد زمینیی ریڈار سے رابطہ رکھنے والا جہاز کا ’ٹرانسپونڈر‘ بند ہوگیا اور ایک گھنٹے بعد ملائیشیا کے فوجی ریڈار نے جہاز نے ایم ایچ 370 کو پھوکٹ جزیرے کے مغرب میں دیکھا۔ یہ آخری بار تھا جب جہاز کو دیکھا گیا تھا۔ فوجی ریڈار میں درج اطلاعات کے مطابق انڈامان سمندرکے اوپر سے جہاز پہلے مغرب کی سمت مڑا اور پھر شمال کی جانب۔

بحرِ ہند کے اوپر سے سیٹلائٹ کی جانب سے جو ڈیٹا جمع کیا گیا اس کے مطابق جہاز اور گراؤنڈ سٹیشن کے درمیان سات بجے ’ آٹومیٹک ہینڈ شیک‘ ہوا اور آخری مکمل ’ہینڈشیک‘ آٹھ بج کر گیارہ منٹ پر ہوا۔

گراؤنڈ سٹیشن اور جہاز کے درمیان پہلے سے طے شدہ یا آٹومیٹک رابطہ نو بج کر پندرہ منٹ پر ہونا تھا۔ یہ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن جہاز کی جانب سے کوئی سگنل نہیں ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption طیارے کی تلاش میں جدید تکنیک کا استعمال کیا گیا

گزشتہ برس جون کے اواخر سے تفتیش کار آسٹریلیا کے مغربی ساحل میں ایک مخصوص خطے میں تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں جو 18 سو کلومیٹر پر مشتمل ہے۔

اگست میں پانی کی گہرائی میں سروے کرنے کے بعد اہم ڈیٹا جمع کیا گیا جس میں سمندر کے فرش کا نقشہ بنایا گیا۔ فی الوقت چار جنگی جہاز سمندر کے اندر دور دراز کے علاقوں میں تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ایسا خیال ہے کہ جہاز یہیں آ کر گرا ہے۔

ان جنگي جہازوں میں ایک مخصوص تکنیک نافذ کی گئی جس سے پانی کے اندر گمشدہ جہاز کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔

ملا‏ئیشیا کی حکومت نے جنوری میں اس گمشدہ جہاز کو ایک حادثہ قرار دیا اور اس پر سوار سبھی دو سو انتالیس مسافروں کو مردہ قرار دے دیا گیا۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم ٹونی ابیٹ نے مشورہ دیا ہے کہ گمشدہ جہاز کی تلاش کا دائرہ محدود کیا جا سکتا ہے۔ اس جہاز کی تلاش کے کام کو تاریخ کا سب سے مہنگا اور طویل مدتی عمل قرار دیا گیا ہے۔ اس کا بجٹ 93 ملین ڈالر ہے اور اس کو 20 ممالک کا اشتراک حاصل ہے۔

جو چار جنگی جہاز اس کام میں لگے ہیں ان کو زبردست چیلنجیز کا سامنا ہے۔ وہ سمندر کے فرش کا نقشہ بنا رہے ہیں جس کا 4000 فٹ سے زیادہ کی گہرائی تک کا جائزہ اس پہلے کبھی نہیں لیا گیا ہے اور سمندر کے اس فرش پر شدید اندھیرا ہے۔

ان جہازوں کو ابھی تک وہاں سے 2000 میٹر لمبی پہاڑیاں ملی ہیں اور سمندر کے اندر دیگر پہاڑ اور وادیاں بھی ملی ہیں۔

جس جگہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ جہاز وہاں ڈوبا ہے وہ لندن کے مقابلے 40 گنا بڑا ہے اور تفتیش کار پانی کے اندر جس تکنیک کا استمعال کر رہے ہیں وہ انسانی چال کی تیزی کے برابر ہے۔

کہا جارہا ہے کہ سیٹلائٹ کی جانب سے جمع کیے گئے ڈیٹا میں ایک معمولی سے غلطی سے ہو سکتا ہے کہ تفتیش بالکل غلط علاقے میں ہو رہی ہو۔ ابھی تک اس علاقے کا 40 فیصد حصہ تلاش کیا جا چکا ہے اور کوئی نتیجہ نہیں نکل پایا۔

حالانکہ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے انہیں کامیابی ضرور حاصل ہوگی۔

اب سوال یہ ہے کہ اس واقعے سے شعبہ شہری ہوا بازی نے کیا سبق حاصل کیا ہے۔ آسٹریلیا، انڈونیشیا اور ملائیشیا نے اس ہفتے کی شروعات میں کہا تھا کہ اگر مستقبل میں کوئی جہاز غائب ہوتا ہے تو وہ ایسی ایک نئی تکنیک کا استمعال کریں گے جس کے تحت پرواز بھرنے کے ہر 15 منٹ پر جہاز کی نگرانی کی جاتی ہے۔ فی الوقت ہر 30 اور 40 منٹ پر جہازوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔

اسی بارے میں