یروشلم میں فلسطینی ڈرائیور نے پانچ افراد کو ٹکر مار دی

یروشلم: فلسطینی ڈرائیور نے پانچ افراد کو ٹکر مار دی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مشرقی یروشلم میں اس طرح کے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں

یروشیلم میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک فلسطینی ڈرائیور نے اپنی گاڑی کی ٹکر سے پیدل چلنے والی چار اسرائیلی خاتون پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد کو زخمی کر دیا ہے۔

جمعے کو یہ واقعہ مشرقی اور مغربی یروشلم کو جوڑنے والے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب فلسطینی حکام کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی کے تمام معاہدے منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس علاقے میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران اس نوعیت کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرائیور کا تعلق مشرقی یروشلم سے ہے اور اس نے پولیس کی جانب سے گولی مار کر زخمی کیے جانے سے پہلے چاقو سے بھی لوگوں کو مارنے کی کوشش کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ زخمی پولیس اہلکاروں اور عام شہری کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

پولیس کی ترجمان لوبا سمری نے اس واقعہ کو ’شدت پسندانہ‘ حملہ قرار دیا ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب یہودی افراد اپنے تہوار پورم کو منانے کے لیے سڑکوں پر جمع تھے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو ہی فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن یعنی پی ایل او نے اسرائیل کے ساتھ 1993 میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت سکیورٹی کے تعاون کے سبھی معاہدوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گذشتہ برس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری شورش کے دوران بھی فلسطینی شدت پسندوں نے گاڑی کی ٹکر سے تین اسرائیلی اور ایکواڈور کی ایک خاتون کو ہلاک کردیا تھا۔

1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد سے مشرقی یروشلم پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ پورا یروشلم روحانی طور پر اس کا ہے اور اسے کوئی بھی اس نے نہیں لے سکتا۔ حالانکہ فلسطین مشرقی یروشلم کو مستقبل میں فلسطین کی دارالحکومت بنانا چاہتا ہے۔

فلسطینی ان علاقوں اور غزہ کی پٹی کے علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادیاں تعمیر کرنا بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی ہے مگر اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔

اسی بارے میں