کیا MH370 حادثہ خودکشی تھا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایم ایچ 370 طیارہ لاپتہ ہونے کے ایک سال تک اس سے متعلقہ ایک ٹکڑا تک نہیں مل پایا ہے

آج سے تقریباً ایک سال پہلے ملائیشیا کی ایئر لائنز کا طیارہ جس پر 239 افراد سوار تھے اچانک لاپتہ ہوگیا تھا اور آج تک اس کی تلاش جاری ہے۔

تحقیق کار اب تک یہ نہیں جان سکے کہ طیارے کو کیا ہوا۔ کیا طیارے کے پائلٹ کی خود کشی حادثے کی وجہ تھی؟

’کسی کی آنکھیں (پائلٹ) اس جزیرے کو غور سے دیکھ رہی تھیں۔ کوئی اس جزیرے کو جذباتی نظر سے بہت دیر سے دیکھ رہا تھا۔ لاپتہ ہونے والے جہاز کے پائلٹ کا تعلق پنانگ کے جزیرے سے تھا۔‘

لاپتہ ہونے والی پرواز ایم ایچ 370 کے بارے میں کیپٹن سائمن ہارڈی کا تجزیہ سنیں تو جھرجھری سی آ جاتی ہے۔ سائمن ہارڈی بوئنگ 777 کے تجربہ کار کپتان رہے ہیں اور وہ ایشیا کے ان فضائی راستوں کو ایسے جانتے ہیں جیسے ایک عام مسافر گھر جانے کے تمام شارٹ کٹ جانتا ہے۔ سائمن نے ان فضائی راستوں پر سترہ برس تک پروازیں اڑائی ہیں۔

انھیں ایک ایسی بات کا یقین ہے جسے کوئی پائلٹ، کوئی مسافر، بلکہ کوئی بھی نہیں سمجھناچاہتا۔ اور وہ بات یہ ہے کہ لاپتہ ہونے والے جہاز کے کپتان ظاہری شاہ نے جان بوجھ کر جہاز کو پہلے ریڈار سے اوجھل کیا اور پھر اسے ہزاروں میل دور لے گئے اور اڑاتے رہے تا وقتیکہ جہاز سمندر میں گر نہیں گیا۔

سائمن ہارڈی کہتے ہیں کہ جہاز کو کیا ہوا اس کے اشارے اس جہاز کے فضائی راستے میں ہیں جہاں سے اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے ختم ہوا تھا۔ یہ جہاز وہیں سے واپس مڑ گیا اور ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سرحد پر محوِ پرواز رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طیارے میں سوار مسافروں کے خاندان والوں نے ایک انعامی فنڈ قائم کیا ہے ایسے افراد کے لیے جو اس حادثے کے بارے میں خفیہ معلومات افشا کریں

سائمن کے مطابق لاپتہ ہونے والا طیارہ دورانِ پرواز ان ملکوں میں آٹھ مرتبہ داخل ہوا اور باہر نکلا۔ ’اور یہ غالباً بہت درست سمجھ میں آنے والے طریقے سے اڑائی جانے والی پرواز ہے محض اتفاق نہیں۔ چناچہ ملائیشیا اور تھائی لینڈ دونوں ملکوں کے ایئر ٹریفک کنٹرولر یہی سمجھتے رہے کہ جہاز ان کے نہیں بلکہ دوسرے ملک کی حدود میں محوِ پرواز ہے اور انھوں نے اس پر زیاہ توجہ نہیں دی۔‘

لیکن ان کا حیران کن اور پُراسرار فلسفہ ذرا دیر میں سامنے آتا ہے جب یہ جہاز جزیرۂ پنانگ کے اوپر پہنچتا ہے۔ یعنی اس جزیرے کے ارد گرد چکر لگاتا ہے جس میں کیپٹن ظاہری شاہ رہتےتھے۔

کپٹن سائمن کہتے ہیں ’وہاں یہ جہاز سیدھا جاتے جاتے مڑتا ہے۔ میں نے اس پر بہت زیادہ دیر تک سوچا ہے اور مجھے یہی سمجھ آئی کہ جہاز نے یہاں ویسے ہی پینترا بدلا جیسے اگر میں جہاز اڑا رہا ہوتا تو آسٹریلیا میں آیرز راک کے اوپر پہنچ کر پینترا بدلتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فضائی راستہ سیدھا آیرز راک کے اوپر سے گزرتا ہے اور آپ اسے ٹھیک سے دیکھ نہیں پاتے کیونکہ فوراً ہی یہ جہاز کے انتہائی اگلے حصے کی وجہ سے چھپ جاتا ہے۔‘

Image caption طیارے کے کپتان ظاہری شاہ جن کا تعلق پنناگ جزیرے سے ہے

’لہذا اسے دیکھنے کے لیے آپ کو دائیں یا پھر بائیں مڑنا پڑتا ہے، پھر آپ کو سیدھ میں آنا پڑتا ہے اور پھر آپ کو ایک لمبا موڑ کاٹنا پڑتا ہے۔ اگر آپ لاپتہ پرواز کا معلوم سفر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ اس نے ایک نہیں تین موڑ کاٹے۔ یقیناً کوئی پنانگ کے جزیرے کو دیکھ رہا تھا۔‘

سٹیو لینڈلز جنھوں نے دس برس تک بوئنگ 777 اڑایا ہے اور اب برٹش ایئر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن میں فلائٹ سیفٹی کے ماہر کے طور پر کام کرتے ہیں، آج بھی چکرائے ہوئے ہیں کہ آخر ملائیشین ایئر لائن کی پرواز ایم ایچ 370 کو کیا ہوا۔ وہ کہتے ہیں کوئی بھی نظریہ مکمل طور پر سوالوں کے جواب نہیں دیتا یا پھر پوری طرح واضح نہیں کرتا کہ اس دن کیا ہوا تھا۔

بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کا ہمیں پتہ ہی نہیں۔ لیکن ہمیں یہ معلوم ہے کہ لاپتہ طیارے نے کب پرواز شروع کی، اس کا فضائی راستہ کونسا تھا اور یہ کہ صبح دو بجکر بائیس منٹ پر اسے آخری مرتبہ ریڈار پر دیکھا گیا تھا۔ ان سب سے پتہ چلتا ہے کہ جہاز نے کئی ایسے موڑ کاٹے جن کی کوئی توجییہ نہیں ہے۔ اس کے بعد ایک سیٹلائٹ سے حاصل شدہ انتہائی کم ڈیٹا پر مبنی مفروضہ یہ ہے کہ یہ طیارہ جنوب کی طرف محوِ پرواز ہوگیا اور چھ گھنٹے تک سیدھا اڑتا رہا۔

سٹیو لنڈلز کہتے ہیں کہ ’ان میں سے بہت سے نظریے اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ شاید جہاز اڑانے والا کوئی نہیں تھا۔ لیکن بوئنگ 777 کو موڑنے کے تین طریقے ہیں۔ یا تو پائلٹ جہاز چلا رہا ہو اور جہاز کو موڑے جس کا مطلب ہے کہ کنٹرول ویل کو موڑا جائے، یا جہاز آٹو پائلٹ پر ہو اور خود بخود اڑ رہا ہو یا پھر اس کے نیوگیشن سسٹم میں پہلے ہی سے راستہ ڈال دیا گیا ہو۔ اب پہلے دو نظریوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ کاک پِٹ میں کوئی تھا جس کے بغیر یہ دونوں باتیں ممکن ہی نہیں۔ اب اگر کوئی کاک پِٹ میں تھا تو سوال یہ ہے کہ کوئی ریڈیو کالز کیوں نہیں ہوئیں؟‘

’الیکٹرکس کے لیے اس جہاز میں کئی بیک اپ سسٹم ہیں لہذا اگر سب کچھ ہی ناکام ہوگیا تھا تب بھی کپتان کے زیرِ استعمال پینل بیٹری سے جڑا ہوا تھا جس کا مطلب ہے کہ کپتان کے پاس ریڈیو کی تار بھی بیٹری سے منسلک تھی لہذا ایئر ٹریفک کنٹرول سے ریڈیو کے ذریعے رابطہ ممکن تھا۔ فرض کریں بیٹری بھی کام نہیں کر رہی تھی تب بھی جہاز کے پچھلے حصے سے ایک پنکھے سے چلنے والی ٹربائن کو گرایا جا سکتا ہے جس سے جہاز کے لیے ضروری اور بنیادی سہولتوں کو استعمال کرنے کے لیے کافی بجلی فراہم ہو سکتی ہے جن میں ریڈیو بھی شامل ہے۔‘

سٹیو لینڈلز کہتے ہیں کہ ’ایک امکان یہ ہے کہ کاک پِٹ میں شدید آگ بھڑک اٹھی جو ماضی میں بھی دیگر جہازوں کے ساتھ ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب ہو سکتا ہے کہ پائلٹس کو کاک پِٹ سے باہر نکلنا پڑا لیکن اگر ایسا ہوا تو پھر سوال یہ کہ اتنی شدید آگ لگنے کے باوجود جہاز اتنی دیر تک کیسے اڑتا رہا؟ یہ سب کچھ بہت غیر ممکن لگتا ہے۔‘

ان سب بے یقینیوں سے ایک تکلیف دہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پائلٹ ظاہری شاہ نے جان بوجھ کر جہاز کریش کر دیا، خود کو بھی مار دیا، جہاز کے عملے کو اور مسافروں کو بھی ہلاک کر دیا؟

لیکن ایسے واقعات انتہائی کم ہیں۔ امریکی ایوی ایشن سفٹی نیٹ ورک کے مطابق تاریخ میں آٹھ ایسے حادثات ہوئے ہیں جن میں خیال ہے کہ پائلٹ نے خود کشی کی تھی۔ چنانچہ ایسے واقعات ہوئے تو ہیں مگر کم۔

ڈیوڈ لیرماؤنٹ جو فلائٹ گلوبل میں سیفٹی ایڈیٹر ہیں کہتے ہیں ’ہمیں معلوم ہے کہ کیا ہوا۔ اس حادثے کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ یہ کہ کسی نے جان بوجھ کر ایسا کیا۔ شاید پائلٹ نے۔‘

لیکن یہ خیال بہت متنازع ہے۔

ایوی ایشن رائٹر سِلویا رنگلی کہتی ہیں ’پرواز ایم ایچ 370 کے پائلٹ کی طرف سے خودکشی کرنے والے نظریے پر اس لیے زیادہ بات ہو رہی ہے کہ پورے پچھلے سال باہر کی کسی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ سوشل میڈیا پر کچھ نہیں آیا۔ کسی نے جہاز گرانے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ لیکن جو ہوا اسے خود کشی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ جہاز گھنٹوں اڑتا رہا۔ اگر خود کشی ہوتی تو جلد ہوتی۔ بس جہاز کو زمین سے ٹکرانا تھا۔‘

فلائٹ ایم ایچ 370 کو لاپتہ ہوئے سال ہوگیا ہے اور یہ ناقابلِ یقین ہے کہ تاریخ میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تلاش کے باوجود جہاز کی سیٹ کا کور، سامان کا ٹکڑا، آکسیجن کا کوئی ماسک، کوئی اور نشان تک بھی نہیں مل سکا جس سے جہاز کا اتا پتہ چل سکے۔

صرف خاندانوں کے لیے بری خبریں ہیں سامنے آتی رہی ہیں۔ آسٹریلیا میں حکام کہتے ہیں کہ جب وہ اس ترجیحی علاقے کو چھان پھٹک لیں گے جو شاید اس سال مئی تک ہو جائے گا، تو وہ ہار مان کر تلاش ختم کر دیں گے۔

1837 میں جب پائلٹ سورج یا ستاروں کی جگہ کے لحاظ سے اپنا رخ بدلا کرتے تھے دنیا کی مشہور تین ہوابازوں میں سے ایک ایمیلیا ایئر ہارٹ اپنے طیارے سمیت بحرالکاہل کے اوپر غائب ہو گئی تھیں۔ اس کے بعد سے ایسے نظریات سامنے آتے رہے ہیں کہ وہ ایک جاسوس تھیں، یا یہ وہ اب نیو جرسی میں ایک شہرت سے بچنے کے لیے ایک خاتون خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہیں۔

ایسی کہانیاں اب بھی شہ سرخیاں بنتی ہیں بلکہ گذشتہ ہفتے ہی میں نے ایک ایسے شخص سے بات کی جس نے ایمیلیا کے طیارے کو ڈھونڈنے میں اپنی دہائیاں گزار دیں اور وہ اب ایک نئی امید پر ایک دور دراز جزیرے کا سفر کرنے والے ہیں۔

مجھے یہ سوچ کر جھُرجھُری سی آ جاتی ہے کہ اگر ایسا ہو کہ آٹھ دہائیوں بعد لوگ ہماری پرانی رپورٹیں پڑھ رہے ہوں گے جب ایک نئی مہم پرواز نمبر ایم ایچ 370 کی تلاش میں اس معمے کو حل کرنے کے لیے عازمِ سفر ہو رہی ہو گی۔

اسی بارے میں