لاپتہ مسافروں کے اہلخانہ نے عبوری رپورٹ مسترد کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اتوار کو مسافروں اور عملے کے ارکان کے لواحقین نے اپنے عزیزوں کی یاد میں دعائیہ تقاریب میں شرکت کی

ملائیشیا کی ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 370 میں لاپتہ ہونے والے مسافروں کے اہلخانہ نے واقعے ایک سال بعد جاری کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

طیارے کے لاپتہ ہونے کے ایک سال بعد جاری کی جانے والی غیر حتمی رپورٹ میں اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ آخر اس طیارے کو ہوا کیا تھا۔

کیا MH370 حادثہ خودکشی تھا؟

گمشدہ طیارے کی تلاش کب تک جاری رہے گی؟

طیارے میں سوار ایک مسافر کے رشتہ دار نے رپورٹ کو فضول قرار دیا ہے۔

مسافروں کے رشتہ داروں نے طیارے کے لاپتہ ہونے کی پہلی برسی کے موقعے پر ایک دعائیہ تقریب کا انقعاد ہے اور اس موقعے پر بعض نے رپورٹ پر اپنی مایوسی اور غصے کا اظہار بھی کیا۔

ان میں سے سارہ بجک کے ساتھی فلپ وڈ اس طیارے میں سوار تھے۔ سارہ کے مطابق تحقیقات کرنے والوں نے صرف 120 افراد کے انٹرویو کیے اور یہ تضحیک ہے۔

’یہ ہمارے نجی طور پر تحقیقات کرنے والوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جن کی تعداد اور وسائل بہت کم تھے۔‘

خیال رہے کہ طیارے میں سوار مسافروں کے اہلخانہ نجی طور پر بھی اس واقعے کی تحقیقات کرا رہے ہیں۔

ریمنڈ گاگیرن کی کزن اینی ڈیزی بھی مسافروں میں شامل تھیں۔ گاگیرن کے مطابق انھیں یقین ہے کہ حکومت مسافروں کے خاندانوں سے معلومات کو پوشیدہ رکھ رہی ہے۔

ایک اور رشتہ دار خاتون نے نام نہ ظاہر کیے جانے پر رپورٹ کو فضول قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ ہم نے ملائیشیا کی جانب سے 19 جنوری کو کیے جانے والے اس اعلان کو مسترد کر دیا تھا کہ یہ صرف ایک حادثہ تھا۔‘

مسافر تئن چیانگ کے والد تئن توآن کی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ ان کا بیٹا اب بھی زندہ ہے۔

’مجھے تشویش ہے کہ ہماری حکومت کہیں طیارے کی تلاش کا کام روک نہ دے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طیارے میں سوار ایک مسافر کی رشتہ دار خاتون نے رپورٹ کو یکسر فضول قرار دیا

اتوار کو جاری کی جانے والی عبوری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ روشنی جس سے سمندر کے اندر طیارے کے حادثے کے مقام کی نشاندھی ہو سکتی تھی اس کی بیٹری ایک سال پہلے ہی دم توڑ چکی تھی، تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس بیٹری کے ختم ہو جانے سے تلاش کے عمل پر کوئی اثر ہوا یا نہیں۔

طیارے کے لاپتہ ہونے کے ایک سال بعد بھی ملائیشیا اور آسٹریلیا کا دعویٰ ہے کہ وہ اس طیارے کو تلاش کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔

اتوار کو طیارے میں سوار 239 مسافروں اور عملے کے ارکان کے لواحقین نے اپنے عزیزوں کی یاد میں دعائیہ تقاریب میں شرکت کی۔

ملائشیا کی حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی عبوری رپورٹ میں گمشدہ طیارے کے بارے میں بے شمار تکنیکی معلومات کے علاوہ طیارے کی مرمت اور دیکھ بھال کا ریکارڈ، عملے کے ارکان کا پس منظر اور آخری پرواز کے دوران شہری ہوابازی اور فوجی ریڈاروں میں طیارے کی پرواز کا ریکارڈ شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ کاک پِٹ میں آواز ریکارڈ کرنے والے آلے کی بیٹری کام کر رہی تھی لیکن چونکہ فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر کی بیٹری کی مدت ختم ہو گئی تھی، اس لیے اس بات کے امکانات کم ہو گئے تھے کے تلاش کرنے والا عملے کو معلوم ہوتا کہ طیارہ کس مقام پر گرا تھا۔

جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں کوئی ایسی نئی معلومات نہیں ہیں جن سے پتہ چلتا کہ طیارہ کہاں گیا یا اس کے ساتھ کیا بیتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملائیشیا کی پرواز ایم ایچ 370 گزشتہ برس آٹھ مارچ کو لاپتہ ہوگئی تھی

طیارے کو تلاش کرنے والی ٹیمیں اپنا کام شمالی بحرِ ہند میں 60 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں کر رہی ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم ٹونی ایبٹ کا کہنا ہے کہ اگر اِس علاقے میں طیارے کی تلاش میں ناکامی ہوتی ہے اور ہمیں کسی دوسرے مقام کی جانب کوئی ممکنہ اشارے ملتے ہیں تو وہاں پر بھی تلاش شروع کی جا سکتی ہے۔

سنیچر کو ملائیشیا کے ٹرانسپورٹ کے وزیر کا کہنا تھا کہ وہ پراعتماد ہیں کہ ایک سال پہلے لاپتہ ہونے والا طیارے ایم ایچ 370 کو جنوبی بحر ہند میں تلاش کر لیا جائے گا۔

لیو ٹی اونگ لائی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ طیارے کے ملنے تک اس کی تلاش جاری رہے گی۔

خیال رہے کہ ملائیشیا کی پرواز ایم ایچ 370 گزشتہ برس آٹھ مارچ کو لاپتہ ہوگئی تھی اس میں 239 افراد سوار تھے۔ یہ جہاز کوالالمپور سے بیجنگ جا رہا تھا۔

اسی بارے میں