نیمتسوو قتل کیس میں 2 افراد پر فردِ جرم عائد کر دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زاؤر دادایو کو اتوار کے روز سخت حفاظتی انتظامات میں عدالت میں لایا گیا۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایک عدالت نے روسی حزبِ اختلاف کے رہنما بورس نیمتسوو کے قتل کے تعلق میں دو افراد پر فردِ جرم عائد کی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ان ملزموں میں سے ایک، زاؤر دادیو، نے اعتراف کیا ہے کہ وہ 27 فروری کو رات گئے کریملن کے قریب ایک پل پر ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں ملوث تھا۔

روسی میڈیا کے مطابق اینزر گوباشیو اور زاؤر دادایو چیچن ہیں۔

تین دوسرے مشتبہ افراد بھی اتوار ہی کو عدالت میں پیش ہوئے اور انھیں ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

بورس نیمتسوو کو کریملن کے قریب ہی ایک پل پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ رات کے وقت پیدل جا رہے تھے۔

اس قتل کے نتیجے میں روس بھر میں سنسی کی لہڑ دوڑ گئی تھی اور ہزاروں افراد نے ماسکو میں ایک عظیم جلوس میں شرکت کی۔

اینزر گوباشیو اور زاؤر دادایو کو اتوار کے روز سخت حفاظتی انتظامات میں عدالت میں لایا گیا۔

ان دونوں افراد جن پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے کے بارے میں بہت کم اطلاعات ہیں مگر اطلاعات ہیں کہ زاؤر دادیوو وزارتِ داخلہ کی ایک بٹالین میں چیچنیا میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

بورس سابق نائب وزیراعظم رہ چکے ہیں اور ان کی عمر 55 سال تھی جنہیں 27 فروری کو پیچھے سے گولیاں ماری گئیں۔ انہیں منگل کو ماسکو میں دفن کیا گیا۔

صدر ولادیمیر پوتن نے اس قتل کی مذمت کی اور ان ’شرمناک‘ سیاسی قتل کی وارداتوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

Image caption ان کی آخری رسومات میں ہزاروں افراد نے شرکت کی

تاہم حزبِ اختلاف کے اہم رہنما سلیکسی نیولنی نے کریملن پر الزام عائد کیا کہ اس نے اس قتل کے احکامات جاری کیے تاکہ حزبِ اختلاف کو روس کے بڑھتے ہوئے معاشی مسائل کے حوالے سے آواز اٹھانے پر چُپ کروایا جا سکے۔

نیمستوو کو اُس وقت قتل کیا گیا جب وہ یوکرین میں جنگ کے خلاف ایک بڑے جلوس کا انعقاد کرنے والے تھے اس کے علاوہ وہ ایک رپوٹ بھی لکھ رہے تھے جس میں وہ اس تنازعے میں روس کے خفیہ طور پر ملوث ہونے کے حوالے سے معلومات افشا کرنے والے تھے۔

ان کے قتل کے بعد یکم مارچ کو 50 ہزار افراد نے ایک جلوس میں شرکت کی جبکہ ان کی آخری رسومات کے لیے بھی ہزاروں افراد نکلے۔

اسی بارے میں