جرمنی میں ’پی بیک ٹائم‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نینوٹیکنالوجی کے استعمال سے اب دیواریں جواباً عرض کریں گی

اگر آپ جرمنی میں رات میں نکل پڑے ہیں تو باہر سڑک کے کنارے کسی عمارت پر پیشاب کرنے سے پہلے آپ کئی بار سوچیں گے۔

شراب پینے کے بعد دیواروں پر پیشاب کرنے والوں سے تنگ آ کر ہیمبرگ میں وسیع پیمانے پر سیاحوں کی دلچسپی کے علاقے سینٹ پال میں ایک گروپ نے بدلہ لینے کی ٹھان لی ہے۔

دیواروں کو پانی کو واپس بھیجنے والے کیمیائی پینٹ سے رنگا گیا ہے تاکہ پانی کے چھینٹے واپس اسی طرف جائيں جس سمت سے آئے ہیں۔

اس لیے جو کوئی بھی ان دیواروں پر پیشاب کرتا ہے انھیں اپنے کیے کا مزہ چکھنا پڑتا ہے۔

اس کو ’پی بیک ٹائم‘ یعنی پیشاب واپس کرنے کا وقت کہا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جرمنی میں ہیمبرگ کے سینٹ پاؤلی ڈسٹرکٹ میں ہر سال کم از کم دو کروڑ سیاح آتے ہیں

اس پینٹ کا نام ’الٹرا ایور ڈرائی‘ ہے اور اسے دیوار پر لگانے سے ایک ایسی پرت تیار ہو جاتی ہے جس میں ہوا بھری ہوتی ہے۔ اس کے بنانے والے کی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا گيا ہے کہ یہ کسی بھی رقیق یا سیال مادے کو مکمل طور پر واپس کر دیتی ہے۔

آئی جی سینٹ پولی تنظیم کی جولیا سٹیرون نے نیوز بیٹ کو بتایا کہ ’اس پینٹ کو کشتیوں اور طیاروں میں عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اب جبکہ اس ضلعے میں ہرسال دو کروڑ سیاح آتے ہیں اور شراب پی کر پیشاب کرتے ہیں تو اب اس کا دوسرا استعمال بھی دریافت کر لیا گيا ہے۔‘

خیال رہے کہ یہ تنظیم اس نادر خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سرگرم ہے۔

جولیا کا کہنا ہے کہ ’پینٹ نے اپنا کام کر دیا ہے اور بالآخر اس نے وہ توجہ حاصل کر لی ہے جو ہم چاہتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اب دیواروں پر اس طرح کے بورڈ نظر آ سکتے ہیں

ابھی تک صرف دو عمارتوں پر یہ پینٹ کیاگیا ہے لیکن آنے والے ہفتوں میں مزید عمارتوں پر کیا جانے کا منصوبہ ہے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ لوگوں کی عادت کو بدلنے کے لیے ایسے اقدام کیے گئے ہوں۔ اس سے قبل لندن میں بے گھر لوگوں کو کسی عمارت کے احاطے میں سونے سے باز رکھنے کے لیے ’میٹل سپائیک‘ آیا تھا۔

یا پھر قدرے نیچے بنی کھڑکیوں پر بیٹھنے سے باز رکھنے کے لیے کیلیں یا پھر بس سٹاپ پر زیادہ دیر نہ بیٹھنے رہنے پر مجبور کرنے کے لیے ترچھی سیٹوں والی نشستیں وغیرہ۔

بینچوں پر کرسیوں کی طرح دستے لگانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ وہاں سو نہ جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ دستے والی بینچیں بھی اس لیے ہیں کہ لوگ اس پر سو نہ سکیں

جہاں تک ’سپلیش بیک پینٹ‘ کا تصور ہے تو جولیا سٹیرون کے خیال میں یہ طریقہ خاصا مقبول ہو گا۔

اسی بارے میں