مالی میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے نزدیک راکٹوں سے حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوامِ متحدہ کا یہ مشن شدت پسندوں کی جانب سے اکثر اوقات نشانہ بنتا رہتا ہے۔

مالی کے شمال میں واقع اقوامِ متحدہ کے دفتر کے نزدیک ہونے والے ایک راکٹ حملے میں امن فوج کے ایک اہلکار سمیت دو شہری ہلاک ہو گئے۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق امن فوج کا اہلکار اس وقت ہلاک ہوا جب مالی کے قصبے کیدال میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے قریب بیس راکٹ داغے گئے۔

بیان کے مطابق داغےگئے چند راکٹ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ حملہ کس نے کیا؟

اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجو متحرک ہیں۔

دوسری جانب شدت پسند تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ نے سنیچر کو ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

الجیریا سے تعلق رکھنے والے والے شدت پسند رہنما مخـتار بن مختار نے بوکو حرام میں واقع شراب خانے پر ہونے والے اس حملےکو ’مغرب کے خلاف انتقامی آپریشن‘ قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایک مسلح شخص نے ایک بار پر فائرنگ کر کے ایک فرانسیسی شہری، یورپی یونین کی جانب سے بیلجیئم سفارت خانے کی سکیورٹی پر مامور اور تین مالی باشندوں کو ہلاک کر دیا۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ نے سنہ 2013 میں فرانس سے ایک مشن کی سکیورٹی کی ذمہ داریاں لیں تھیں۔

اقوامِ متحدہ کا یہ مشن شدت پسندوں کی جانب سے اکثر اوقات نشانہ بنتا رہتا ہے۔

شدت پسند تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے والے اسلامی شدت پسند اور توراگ باغی مالی کے شمال میں فوج سے گذشتہ کئی برسوں سے برسرِ پیکار ہیں۔

اسی بارے میں