’ایران کے نام کانگریس کا خط جوہری بات چیت میں مداخلت‘

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption براک اوباما نے حال ہی میں ایران کا جوہری پروگرام دس برس کے لیے منجمد کرنے کی تجویز دی تھی

امریکہ کے صدر براک اوباما نے امریکی کانگریس کے رپبلکن سینیٹرز کی جانب سے ایران کے نام خط پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوانِ نمائندگان کے ان ارکان نے جوہری پروگرام پر جاری بات چیت میں ’مداخلت‘ کی ہے۔

براک اوباما کا کہنا ہے کہ خط لکھنے والے 47 سینیٹرز نے ایک طرح سے ایران کے سخت گیر رہنماؤں کے ساتھ ’غیرمعمولی اتحاد‘ کر لیا ہے۔

47 ریپبلکن سینیٹرز کی جانب سے دستخط شدہ اس خط میں ایران کو یاد دلایا گیا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام پر کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک صرف ایک ’ایگزیکیٹو ایگریمنٹ‘ ہی رہے گا جب تک کانگریس اس کی منظوری نہیں دے دیتی۔

اس وقت ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی مذاکرات نازک موڑ پر ہیں اور اس سلسلے میں معاہدہ طے پانے کے لیے حتمی مدت 31 مارچ کو ختم ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ تین مارچ کو امریکی کانگریس سے خطاب میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ ایرانی جوہری بم کی تیاری کی راہ ہموار کر دے گا۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ رپبلکن اور کچھ ڈیموکریٹ سینیٹرز ایک عرصے سے ایران سے جوہری معاہدے کے معاملے پر ایوان میں ووٹنگ کے لیے کوشاں ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس کا اصرار ہے کہ اس قسم کے کسی معاہدے کے لیے ان کی منظوری ضروری نہیں۔

خط پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ہے کہ ’میرے خیال میں یہ کچھ مضحکہ خیز سی بات ہے کہ کانگریس کے کچھ ارکان ایران کے سخت گیر عناصر کے ہمراہ ایک نکتے پر اکھٹا ہونا چاہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیرِ خارجہ جان کیری جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے ملاقات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تو ایک غیرمعمولی اتحاد ہے۔‘

براک اوباما کے مطابق وہ ایران کے جوہری معاہدے پر بات چیت کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے کوششوں پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔

اس سے قبل امریکی صدر کے دفتر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ خط نے سفارتی بات چیت میں خلل ڈالا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جوش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ ’یہ جنگ کی جانب تیزی سے بڑھنے جیسا ہے یا کہیں کہ کم از کم عسکری مداخلت کی جانب تیزی سے بڑھنے جیسا ہے۔‘

ایران نے بھی اس خط کو پروپیگنڈے کی کوشش قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ اگر اگلی امریکی حکومت کسی معاہدے کو ختم کرتی ہے تو یہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔

ایرانی حکام کے نام اپنے خط میں امریکی سینیٹروں نے کہا ہے ممکن ہے کہ ایرانی رہنما امریکہ کے آئینی نظام سے مکمل طور پر واقف نہ ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مغربی ممالک کا خیال ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران اس سے انکار کرتا آیا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں صرف توانائی کے حصول کے لیے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ کوئی بھی ایسا معاہدہ جسے کانگریس کی حمایت حاصل نہیں محض امریکی صدر براک اوباما اور ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہی ہوگا۔

سینیٹرز نے یہ بھی کہا ہے کہ ان میں سے بیشتر اس وقت بھی ایوان کے رکن ہوں گے جب جنوری 2017 میں براک اوباما کے دورِ اقتدار کی مدت ختم ہو جائے گی۔

دریں اثنا امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وزیرِ خارجہ جان کیری جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے ملاقات کریں گے۔

امریکہ سلامتی کونسل کے دیگر مستقل اراکین اور جرمنی کے ساتھ مل کر ایران کو اس کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے کوشاں ہے اور اس کے بدلے میں وہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں کم کروانے کی پیشکش کرتا ہے۔

مغربی ممالک کا خیال ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران اس سے انکار کرتا آیا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں صرف توانائی کے حصول کے لیے ہیں۔

اسی بارے میں