وہ پرندے جو تحفے دیتے ہیں

Image caption ’میں ایک زخمی ہونے والے کوے کے بچے کی لے پالک ماں ہوں۔ میں اسے پیار سے ’شیرل کرو‘ کہتی ہوں‘

حال ہی میں امریکہ کی ایک آٹھ سالہ لڑکی کے بارے میں رپورٹ بی بی سی میگزین میں شائع ہوئی جو کوؤں کو کھانا کھلاتی ہے اور وہ شکریے کے طور پر انھیں تحائف دیتے ہیں۔ اس رپورٹ نے بہت سارے قارئین کو متاثر کیا اور انھوں نے پرندوں کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں ہمیں تفصیلات ای میل کے ذریعے بھیجیں۔ گذشتہ رپوٹ میں گابی من کی کہانی پیش کی گئی تھی کہ کس طرح پرندے انھیں رنگین شیشے، پیپر کلپس، بٹن اور زیورات کے ٹکڑے دیتے ہیں۔ اب یہ امر سامنے آیا ہے کہ وہ پرندوں سے تحائف حاصل کرنے والی واحد فرد نہیں ہیں۔

لین وِٹ، امریکہ

میں ایک زخمی ہونے والے کوے کے بچے کی لے پالک ماں ہوں۔ میں اسے پیار سے ’شیرل کرو‘ کہتی ہوں۔ میں اس سے باتیں کیں، اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا اور صحت یاب ہونے پر میں نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اس دوران میں اس خوبصورت اور ذہین پرندے سے پیار کرنے لگی۔ موسم گرما تک وہ بڑھنے لگی اور اس نے اڑنا سیکھ لیا۔ شیرل میرے لیے تحائف لے کر آتی ہے۔ میرا پہلا تحفہ مجھے اس نے پر پھیلا اور سر جھکا کر دیا۔ انتہائی رسمی انداز میں مجھے ایک کھلونا بندوق کی فوم سے بنی ہوئی برچھی دی گئی۔ اس نے یہ برچھی واپس لینے سے انکار کر دیا جیسا کہ اکثر وہ کرتی ہے جب ہم کھیلتے ہیں۔ مجھے انتہائی فخر محسوس ہوا۔ وہ اکثر مجھے ان تحائف سے حیران کرتی رہتی ہے۔

Image caption شیرل کو کھیل کھیلنا بھی پسند ہے

ایک بار مجھے سانتا کا ایک چھوٹا سا تحفہ دیا گیا۔ شیرل عام طور پر بوتلوں کے ڈھکن، پیچ دار کیل، مچھلی پکڑنے والا لٹو یا کسی پرندے کا پر لے کر آتی ہے لیکن کبھی کوئی کھانے کی چیز یا مردہ جانور نہیں لائی۔ جب وہ کوئی چیز لاتی ہے تو وہ اپنے پر مکمل طور پر پھیلاتی ہے اور اپنا سر جھکالیتی ہے۔ شیرل کو انڈے، پنیر، بیکن، ہیم برگر، آلو، شہتوت، تربوز، مٹر اور گاجریں پسند ہیں۔ شیرل کو کھیل کھیلنا بھی پسند ہے، اسے پتھر اور چمکدار چیزیں چھپا دینا بے حد اچھا لگتا ہے۔

کیٹی روس، موکیلٹئو، واشنگٹن، امریکہ

میں اپنے گھر کے عقبی صحن میں روزانہ کوؤں کو کھانا کھلاتی ہوں۔ جب کبھی انھیں ان کا پسندیدہ کھانا ملتا ہے، مثال کے طور پر پسلی کی ہڈیاں جس پر تھوڑا بہت گوشت لگا ہو، تو اکثر مجھے تحفہ بھی ملتا ہے۔ ہمیں ہر طرح کی چیزیں ملیں جن میں چمکدار پتھر کے ٹکڑوں سے لے کر سرخ سوت کے ٹکڑے اور مردہ کیڑے شامل ہیں۔ ہمیں اپنے کوؤں سے پیار ہے۔

ایلکس فیشر، سانتا فے، نیو میکسیکو، امریکہ

کئی برس پہلے میں ایک پہاڑی کوے کے لیے باقاعدگی سے کھانا ڈالتی تھی۔ ایک دن وہ میرے لیے کسی اوزار کا لکڑی کا دستہ لے کر آیا، شاید یہ کوئی چھینی تھی۔ میں نے یہ خزانہ سنبھال کر رکھا اور آج بھی میرے پاس یہ چھوٹا سا لکڑی کا دستہ موجود ہے۔

Image caption ’کوؤں نے ہماری بلی کے گلے کا پٹہ ہمیں لا کر دیا‘

الیسن الکوبا، سیاٹل، واشنگٹن، امریکہ

میرے پاس کوؤں کے دیے گئے تحائف ہیں جن میں بیشتر کھلونے ہیں، ایک کھلونا کار، پلاسٹک کا لٹو، کریکرجیک کا ٹوکن، ڈونلڈ ڈک پیز ڈسپنسر ہیڈ وغیرہ، کوے یہ تمام چیزیں پرندوں کے نہانے والے بیسن میں چھوڑ کر جاتے ہیں۔ ہم اپنے کوؤں کو مونگ پھلیاں کھلاتے ہیں اور ہماری بلیک بارٹ نامی بلی ان کوؤں کے ساتھ کھیلتی تھی۔ ایک صبح جب ایک گیڈر نے ہماری بلی کو مارا تو یہ کوے ہی تھے جنھوں نے شور مچا کر ہمیں بتایا۔ ہماری بلی براٹ کے مرنے کے ایک ہفتے بعد ایک روز پھر کوؤں کا شور سنائی دیا گیا جب ہم نے وہاں جا کر دیکھا تو جس جگہ پر بلی کو مارا گیا تھا وہیں اس کے گلے کا پٹہ پڑا ہوا تھا جس پر اس کا نام لکھا ہوا تھا۔ یہ کوؤں کی جانب سے دیا جانے والا سب سے زیادہ رحم دلانہ تحفہ تھا جس سے ہم مزید قریب آگئے۔

امیتھسٹ سیلما سیلین، سٹاک پورٹ، برطانیہ

ایسا دو بار ہوا جب میرے زیورات کا کوئی انتہائی اہم حصہ کھوگیا اور دو ہفتوں بعد میگ پائیز نے، جو کوؤں کی ایک قسم ہے، مجھے لوٹا دیا۔ میں نے ایک خوبصورت وکٹورین پانچ کونی ستارہ امریکہ سے خریدا تھا اور ایک ہفتے کے بعد ہی کھو گیا۔ تین ہفتوں کے بعد اتوار کی ایک صبح جب میں اپنی چھوٹی سی دکان پر جارہی تھی کہ تین کوے میری جانب چہچہاتے ہوئے بڑھنے لگے۔ اس کے بعد وہ سڑک پر چھپٹنے لگے۔ ایسا تین منٹ تک چلتا رہا، میں کوؤں کے اس رویے سے بچنے کے لیے سڑک پر آگئی تب میں نے دیکھا کہ سڑک پر کوئی چیز چمک رہی ہے۔ وہیں سڑک پر میرا وکٹورین ستارہ پڑا ہوا تھا۔ وہ مجھے بتا رہے کہ یہ سڑک پر پڑا ہوا ہے اور مجھے اس کے دوبارہ ملنے پر بہت حیرانی ہوئی۔ اسی طرح ایک پانچ کونی ستارے والا جھمکا چند ماہ پہلے کہیں کھو گیا۔ میں اپنے کوڑے دان کو باہر رکھنے جارہی تھی لیکن میں نے کوؤں کے کھانا کھانے کا انتظار کیا اور ان کے جانے کے بعد جب میں وہاں سے گزری تو میں نے دیکھا یہ وہاں پڑا ہوا تھا۔ میرے پاس مسٹر ایلیٹ نامی کوا ہے جو میرے پاس رہتا ہے۔ وہ جب بچہ تھا جو زخمی ہو گیا اور صرف ایک آنکھ سے دیکھ سکتا ہے۔ مئی میں یہ دو سال کا ہوجائے گا اور یہ میرے پاس سات یا آٹھ ماہ کی عمر سے رہ رہا ہے۔

Image caption ’ایسا دو بار ہوا جب میرے زیورات کا کوئی انتہائی اہم حصہ کھوگیا اور دو ہفتوں بعد کوؤں نے مجھے لوٹا دیا۔‘

گؤنتھرلینسکے، جرمنی

میں نے کوے کے ایک بچے کی مئی 2013 سے ستمبر 2014 تک پرورش کی تھی۔ جب مجھے یہ ملا اس وقت یہ اڑ نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کا ایک پر بری طرح ٹوٹا ہوا تھا، چنانچہ میں نے اسے اپنی کمرے کی کھڑکی کے پاس ایک بڑے سے پنجرے میں رکھا اور روزانہ باغ میں کھلا چھوڑ دیتی تھی۔ ایک سال میں اس کے نئے پر آگئے اور وہ اڑنے کے قابل ہو گیا۔ اڑ جانے سے پہلے اس نے میرے کمرے میں چند پتھر چھوڑ دیئے تھے۔

سٹیفنی سینٹ جیمز، مڈیرا بیچ، فلوریڈا امریکہ

ایک سیاحتی علاقے میں میری دکان ہے اور یہاں متعدد سمندری پرندے باقاعدگی سے آتے ہیں کیونکہ چند ایک کی میں نے مدد کی تھی۔ ایک کوا آیا تھا جس کی نچلی چونچ ٹوٹی ہوئی تھی اور میں نے اسے کھانا کھلانا شروع کیا۔ یہ سات سال پہلے کی بات ہے اور اب بھی وہ اور دوسرے کئی پرندے آتے رہتے ہیں۔

Image caption ’ پہلا تحفہ پلاسٹک میں لپٹی ایک ٹافی تھی جو میرے سامنے گرائی گئی‘

حال ہی میں نے اپنی دکان کے پاس اپنی رہائش منتقل کی ہے اور انھوں نے میرا گھر بھی دیکھ لیا ہے۔ یہیں مجھے تحائف ملنا شروع ہوئے۔ پہلا تحفہ پلاسٹک میں لپٹی ایک ٹافی تھی جو میرے سامنے گرائی گئی۔ پھر صرف ایک ریپر، بولٹ، سمندر خول اور کچھ ہڈیاں آئیں۔

رک زیورنگ، ماؤنٹشنن، کو کلیئر، آئرلینڈ

1994 میں جب میں ہالینڈ کے شہر لوسڈن میں رہتا تھا، مجھے ایک گھونسلے سے گرا ہوا کوے کا بچہ ملا۔ میں نے اس کوے کو گور کا نام دیا اور جلد ہی ہمارے گھرانے کا اہم رکن بن گیا۔ وہ بہت زیادہ حسد کا اظہار کرتا جب کوئی مجھے چھوتا یا مجھ سے بات کرتا۔ اس میں واضح طور پر حس مزاح موجود تھی، جب میں اخبار پڑھ رہا ہوتا تو میرے جوتوں کے تسمے کھول کر الماری کے پیچھے چھپ جاتا یا جب بلیاں کھانا کھا رہی ہوتیں تو ان کی تاک میں رہتا۔ وہ ان کی دم پر چونچ مارتا جس سے وہ بھاگ جاتیں اور وہ ان کا کھانا کھاتا۔ گور مجھے پسند کرتا تھا اور مجھے تحائف لا کردیتا تھا۔ بیشتر اوقات وہ چوری کیا گیا بلیوں کے کھانے لاتا اور اکثر اوقات کوئی پتھر، دودھ کے ڈبے کا ٹکڑا، پر، بڑا سا زندہ حالت میں بھنورا یا ٹہنیاں اور پتے لا کر دیتا تھا۔

Image caption ’گور مجھے پسند کرتا تھا اور مجھے تحائف لا کردیتا تھا‘

وہ گھر کےاندر اڑتا اور میری ٹانگ پر آکر بیٹھ جاتا اور تحفہ میرے پھیلے ہوئے ہاتھ پر رکھ دیتا۔ ایسا اکثر ہونے لگا تو میں نے الماری کے اوپر ایک ٹرے رکھ دی جس میں یہ تمام چیزیں رکھ دی جاتیں۔ اگر میں اسے کہتا کہ یہ چیز اس ٹرے میں رکھ دو تو وہ انتہائی احترام کے ساتھ تحفہ اس میں رکھ دیتا۔ ہمارے پڑوس میں بار بی کیو کیا جارہا تھا، وہ وہاں پہنچا اور ایک ساسیج چوری کر کے میرے پاس لے آیا، اس حرکت پر پڑوسیوں کے ساتھ کچھ کشیدگی بھی ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید پڑوسیوں نے گور کے بارے میں شکایت کرنا شروع کر دی۔ وہ پارکنگ میں کھڑی گاڑی کے سامنے والے حصے پر بیٹھ جاتا اور وہاں سے نہ ہٹتا یا وہ پڑوسیوں کی بلیوں پر حملہ آور ہوتا۔ میرے لیے یہ تکلیف دہ تھا جب میں نے 10 کلومیٹر دور ایک جنگل میں چھوڑے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اس کے بعد اس کو کبھی نہیں دیکھا۔

ایڈنا کنگ، باوریا، جرمنی

12 سال قبل جب میں باغ میں سبزیاں تیار کر رہی تھی تو میں بہت ہی بڑا اور شوروغل کرنے والا کوا میرے گرد منڈلانے لگا۔ میں نے اسے جیکب کا نام دیا اور اسے کھانے کے لیے کچھ روٹی اور بلی کا کھانا دیا۔ جیکب جلد ہی کھانے اور مجھے دیکھنے کے لیے آنے لگا۔ ایک دن جب اضافی گھاس پھوس کی صفائی کر چکی تو میری عادت ہے کہ میں پتوں کو چھوٹا چھوٹا توڑ دیتی ہوں۔ ایک دن جب میں نے توری کے پودے سے کچھ خراب پتے الگ کیے تو جیکب بھاگا بھاگا میرے جانب آیا، اور ان پتوں کو اپنی چونچ اور پنجوں سے باریک کانٹے لگا۔ میں جو بھی پتہ توڑتی وہ ان کو باریک باریک کاٹ دیتا۔ بعض اوقات تو وہ پسائی کی مشین کی طرح کام کرتا ہے۔ میرا تحفہ جیکب کی طرف کی حاصل ہونے والی مدد ہے۔ یہ انتہائی حیرت انگیز اور مضحکہ خیز قسم کا تحفہ ہے۔

Image caption ’میرا تحفہ جیکب کی طرف کی حاصل ہونے والی مدد ہے‘

ڈیان کوپر، ہائی وائکونب، برطانیہ

بہت سال پہلے، جب ہم کینٹ میں ایک کاٹج میں اپنی پانچ سالہ کزن کے ساتھ چھٹیاں منانے گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک کوا نما پرندا وہاں آیا ہے۔ اس نے میری کزن پر توجہ مرکوز رکھی اور ہم سمجھے کہ شاید یہ اس کی بھاری بھرکم آواز کی وجہ سے ہے۔ اس کے بعد وہ ہر روز وہاں آتا، کھانا کھاتا اور میری کزن کے کندھے پر بیٹھ کر تصویر بھی بنوائی۔ ایک روز وہ اپنے بستر پر بیٹھی ہوئی تھی کہ وہ کھلی ہوئی کھڑکی کے راستے اندر آیا اور چمکدار سکہ اس کے بستر پر پھینک دیا۔ ہم نے بعد میں پتا کیا کہ وہ یورپی ایشیائی نسل کا جیک ڈا کوا تھا۔ افسوس ہے کہ ہم جب بھی اس کاٹج پر گئے اسے دوبارہ کبھی نہیں دیکھا تاہم جب بھی دوبارہ وہاں گئے ہماری کزن ہمارے ساتھ نہیں تھی۔

کمبرلی نیماسیک، کھٹمنڈو، نیپال

کوے کے بچوں نے میری بالکونی میں آنا شروع کیا۔ میں انھیں کچھ نہ کچھ کھلاتی رہتی تھی۔ جلد ہی وہ باقاعدگی سے آنا شروع ہوگئے اور مجھے بلانے لگے۔ گھر میں جو کچھ بھی ہوتا میں انھیں دیتی۔ ایک صبح میں نے دیکھا کہ ایک سرخ چوڑی کا ٹکڑا بالکونی میں پڑا ہوا ہے، یہ عموماً کھٹمنڈو کی سڑکوں پر تو پایا جا سکتا ہے لیکن تین منزل اوپر بالکونی میں نہیں۔ میں جانتی تھی کہ یہ کوا لے کر آیا ہے اور میں نے اس لمحے خود کو ایک چھوٹی بچی محسوس کیا اور اپنی دوستوں کو بتایا۔ اسے میں نے محفوظ رکھ لیا تاہم مقامی دوستوں نے مجھ پر دباؤ ڈالا کہ کیسے ٹوٹی ہوئی سرخ چوڑی ذاتی تعلقات کے معاملے میں برا سمجھاجاتا ہے۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔ اگر آپ میرے ذاتی تعلقات کے بارے میں جانتے تو ہی آپ سمجھ سکتے ہیں۔

Image caption ’ ایک صبح مجھے سرخ چوڑی کا ٹکڑا بالکونی میں پڑا ہوا ملا‘

اسی بارے میں