برسوں غائب ہونے کے بعد ننجا پھر جاپان میں

جاپان میں حکام نے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اپنی تاریخ کی مشہور ترین فگر ’ننجا‘ کو پھر سے متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ملک بھر کے گورنروں اور میئروں نے ’ننجا کونسل‘ بنائی ہے اور اخبار جاپان ٹائمز کے مطابق اس نئے اقدام کے تحت کونسل کے شرکا اس پر تیار ہو گئے ہیں کہ وہ دفتری لباس پہننے کی بجائے ایسے کپڑے زیب تن کریں گے جو ننجا کے لیے مخصوص ہیں۔

حکام کو امید ہے کہ بھیدوں سے بھری ننجا کی کہانیاں سیاحوں کو جاپان واپس لانے میں مدد دیں گی۔

ہیروشی میزوہاتا جو جاپان میں فروغِ سیاحت کے ادارے کے سابق سربراہ ہیں کہتے ہیں ’جہاں بھی آپ جائیں یہ (ننجا کا) موضوع بار بار زیرِ بحث آتا ہے۔‘

مقامی کونسلوں اور سیاحت کے فروغ کے اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ننجا کی ان پوزیشنوں کو اجاگر کریں جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہونے والے ننجا قاتل تاریخی طور پر اختیار کرنے سے گریز کیا کرتے تھے۔ یہ ادارے ننجا سے متعلق دیگر پروگراموں کا بھی انعقاد کریں گے۔

آئیکا سوزوکی جو جاپان کے علاقے مائی پریفیکچر کے گورنر ہیں اور جنھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ خود ننجا والا سیاہ لباس پہنا، کہتے ہیں کہ ’ننجا کے ذریعے ہم اپنی کمیونیٹیز کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔‘

Image caption ننجا اسلحے کے ساتھ لڑنے میں بھی ماہر ہوا کرتے تھے اور انھیں کسی بھی جگہ سے ’غائب‘ ہو جانے میں ملکہ حاصل تھا

مائی کے علاقے میں لاگا کا شہر واقع ہے جسے اکثر ’ننجا کا گڑھ‘ کہتے ہیں کیونکہ یہاں ننجا کا ’نِنجوٹسو‘ سکول بھی ہے جہاں ننجا کی تکنیک پڑھائی اور سکھائی جاتی تھی۔

مائی یونیورسٹی میں ننجا کے مطالعے کے لیے ایک مکمل کورس بھی ہے جس میں اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ دوسروں کی نظروں میں آئے بغیر چلا کیسے جاتا ہے۔

جاپان کے متحد ہونے سے قبل 15ویں اور 16ویں صدیوں میں باہم متحارب ریاستیں روایتی طور پر ننجا قاتلوں کو کرائے پر حاصل کر کے اپنے دشمنوں کو ختم کیا کرتی تھیں۔

کہا جاتا ہے کہ ننجا اسلحے کے ساتھ لڑنے میں بھی ماہر ہوا کرتے تھے اور انھیں کسی بھی جگہ سے ’غائب‘ ہو جانے میں ملکہ حاصل تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ننجا ہر ممکن حد تک لڑائی سے گریز کرتے تھے۔ ان کی اصل طاقت جاسوسی اور خفیہ معلومات اکٹھا کرنا ہوا کرتی تھی۔

اسی بارے میں