’دہشت گردوں کے عذر خواہ بھی ذمہ دار ہیں‘

فلپ ہیمنڈ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانوی وزیرِ خارجہ کہتے ہیں کہ ہر کسی کو چاہیے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے والے لوگوں کے عذر خواہ بھی کسی حد تک تشدد کے ذمہ دار ہیں۔

جہادی جان کے نام سے مشہور محمد عموازی کے معاملے کو ٹھیک طرح سے نہ نمٹنے پر برطانوی سکیورٹی سروسز پر بہت تنقید کی گئی ہے۔ لیکن وزیرِ خارجہ فلپ ہیمنڈ نے ایک خطاب میں برطانوی انٹیلیجنس آفیسرز کی نمایاں کارکردگی کی تعریف کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وزرا کو چاہیے کہ وہ سکیورٹی اداروں کو دیئے جانے والے اختیارات کے بارے میں بحث کے دوران فیصلہ کن انداز اختیار کریں تاکہ سکیورٹی ادارے برطانیہ کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا کام موثر طور پر سر انجام دے سکیں۔

اس بارے میں ایک اور پیش رفت جلد متوقع ہے جس میں ارکان پارلیمان ایسے لوگوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کے قانون کی منظوری دینے والے ہیں جن کے بارے میں شبہہ ہو گا کہ وہ دہشت گردی کا خطرہ بن سکتے ہیں۔

اس کے تحت ان فضائی کمپنیوں پر جرمانہ بھی کیا جائے گا جو ’مخصوص لوگوں کو برطانیہ لانے لے جانے‘ کے لیے لگائی جانے والی حدود کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔

لندن میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ (روسی) میں خطاب کرتے ہوئے فلپ ہیمنڈ نے کہا کہ ’گزشتہ چند ہفتوں میں داعش کے سب سے درندہ صفت دہشت گرد کی شناخت معلوم ہونے کے بعد کچھ لوگ دہشت گردوں کی بجائے ایجنسیوں پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔‘

’ہمیں اس بارے میں کوئی ابہام نہیں کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کی ذمہ داری ان پر ہے جو یہ کارروائیاں کرتے ہیں۔‘

’لیکن ذمہ داری کا ایک بھاری بوجھ ان پر بھی ہے جو عذر خواہ بنتے ہیں۔‘

بی بی سی کے سکیورٹی کے نامہ نگار گورڈن کوریرا کے مطابق سکیورٹی سروسز کے ناقد کہتے ہیں کہ انھیں عموازی کو مشرقِ وسطیٰ جانے سے روکنے کے لیے مزید کچھ کرنا چاہیے تھا۔‘

دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثر ہونے والے افراد کی وکالت کرنے والے گروہ ’کیج‘ نے کہا تھا کہ ایم آئی 5 نے عموازی کے بنیاد پرست بننے میں کردار ادا کیا تھا۔

اس کے ریسرچ ڈائریکٹر عاصم قریشی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انٹیلیجنس آفیسرز کی طرف سے ہراساں کیے جانے کے عمل نے تو عموازی کو قاتل نہیں بنایا لیکن اس عنصر نے انھیں یہ سوچنے پر مجبور ضرور کر دیا تھا کہ ان کا اب تعلق برطانیہ سے تو نہیں ہے۔‘

فلپ ہیمنڈ نے کہا کہ لندن کے سکول کی تین طالب علموں کے مبینہ طور پر شام جا کر داعش میں شمولیت اختیار کرنے کے واقعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی کچھ چیزیں ہیں جنھیں ہم بہتر بنا سکتے ہیں۔

’میرے خیال میں مشرقی لندن کی ان تین سکول کی لڑکیوں کے اس خصوصی واقعے نے ہماری کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے، کچھ چیزیں جنھیں ہم بہتر بنا سکتے ہیں، لیکن اس نے کچھ ایسے اقدام کی بھی شناخت کی ہے جو کمیونٹی کے لوگ ہمیں محفوظ بنانے کے لیے بھی لے سکتے ہیں۔‘

ہیمنڈ نے کہا کہ ’حکام، ہوائی اڈوں اور جہاز اڑانے والی کمپنیوں کے علاوہ یہ والدین، سکول اور کمیونٹی ورکرز سبھی کی ذمہ داری ہے۔‘