لیبیا میں کون کیا چاہتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے لیبیا میں ایک حملے کے دوران تیل کی کمپنی میں کام کرنے والے غیرملکی ملازمین کو اغوا کرلیا ہے۔

اس سے قبل فروری میں انھوں نے مصر کے 21 قبطی عیسائیوں کے سرقلم کردیے تھے۔ عالمی حمایت یافتہ لیبیا کی حکومت ملک کے مشرقی شہر توبرک سے حکومتی انتظامات چلا رہی ہے۔ طرابلس میں ایک اور گروہ خود کو ملک کی اصل حکومت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ تو کیا لیبیا میں اصل لڑائی ان دو گروپوں سے منسلک ملیشیا کے درمیان ہے؟ بی بی سی ورلڈ سروس نے لیبیا میں سرگرم طاقتوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔

توبرک کی پارلیمان مفلوج ہے: ماتیا توآلدو

Image caption توآلود کا کہنا ہے کہ لیبیا کی پارلیمان کی حیثیت کو ملک کی تاریخ سے نہیں بلکہ جغرافیے سے خطرہ ہے۔

ماتیا توآلدو یورپین کونسل کے لیے لیبیا کی سرگرمیاں رپورٹ کرتے ہیں۔

’لیبیا میں انتخابات گذشتہ برس 25 جون کو ہوئے تھے۔ پرتشدد واقعات کی وجہ کی سے بہت بھاری تعداد میں ووٹنگ نہیں ہوئی تھی لیکن پھر بھی ہے تو یہ ملک کی پارلیمان‘۔

اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے کرنل قدافی کے دور میں حکومت کے لیے کام کیا تاہم ماتیا توآلودو کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ قدافی کے حامی بھی تھے۔

’یہ بات غیر حقیقی ہوگی اگر یہ کہا جائے کہ لیبیا میں رہنے والے لوگ جن میں سے 80 فی صد لوگ سرکاری محکموں میں کام کرتے ہیں انھوں نے 42 برس تک حکومت کے لیے کام نہیں کیا ہے یا اس کی حمایت نہیں کی ہے۔‘

لیکن توآلود کا کہنا ہے کہ لیبیا کی پارلیمان کی حیثیت کو ملک کی تاریخ سے نہیں بلکہ جغرافیے سے خطرہ ہے۔

’توبرک میں حکومت کے ساتھ پریشانی یہ ہے کہ وہ ایک سٹیرئنگ ویل ہے اورگاڑی 800 سے 100 کلومیٹر دور ہے‘۔

گاڑی طرابلس میں ہے جہاں سول سروسز ہیں، مرکزی بینک ہیں اور وہ ادارہ ہے جو تیل کی پیداوار کو کنٹرول کرتا ہے لیکن توبرک کی پارلیمان کچھ نہیں کرسکتی ہے کیونکہ پیسہ اس کے باغیوں کے ہاتھوں میں ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اصل حکومت ان کے پاس ہے۔‘

’توبرک میں قانون بنائے جاتے ہیں۔ لیکن، ہاں جس کسی بھی قانون کو سول سروسز کے تحت نافذ کیا جانا ہوتا ہے وہ توبرک کی حکومت کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔‘

اب سوال یہ ہے کہ اصل طاقت، حکومت اور پارلیمان کے ہاتھوں میں ہے یا ایک فوجی، جنرل خلیفہ ہفتر کے ہاتھوں میں۔ ہفتر ایک زمانے میں قدافی کے وفادار تھے لیکن بعد میں ان سے علیحدگی ہوگئی تھی۔

’توبرک کیمپ کے لوگوں کا خيال ہے کہ ہفتر پھوٹ ڈالنے والی شخصیت ہیں۔‘

’وہ بہت مقبول نہیں ہیں لیکن ان کو حال ہی میں فوج کا سربراہ بنایا گیا اور ان کا پہلا ہدف شدت پسندوں کو ختم کرنا ہے اور وہ مانتے ہیں کہ وہ مغرب کی طرف سے بھی شدت پسندوں کے خلاف لڑ رہے ہیں'۔

بہت لوگوں کا خیال ہے کہ ہفتر کے اپنے سیاسی احداف ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ توبرک میں فیصلے کرتا کون ہے؟

’فی الحال جس کے ہاتھ میں ہتھیار ہے وہ زيادہ طاقتور ہے، جیسا کہ ہفتر جیسے لوگ۔‘

’بنیادی طور پر حقیقت یہ ہے کہ سنہ 2011 میں کرنل قدافی کا تختہ الٹنے کے بعد لیبیا نے امن کا منہ نہیں دیکھا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ملیشیا حکومت کا حصہ تھی بلکہ حکومت ملیشیا کے ساتھ تھی۔‘

فوجی آمریت کا ڈر: عبدالرحمن الاگیلی

Image caption ’لیبیا میں اسلامی اور غیر اسلامی ایجنڈے کی لڑائی ہے‘

عبدالرحمن الااگیلی لیبیا میں پیدا ہوئے تھے اور بچپن میں ہی برطانیہ آگئے تھے۔ وہ سنہ 2011 میں کرنل قدافی کے خلاف لڑنے کے لیے واپس لیبیا چلے گئے اور وزیر اعظم کے دفتر میں کام کرتے رہے لیکن ملک میں مختلف گروپوں کے درمیان کشیدگی کے پیش نظر سنہ 2014 میں برطانیہ واپس آگئے۔

وہاں دولت اسلامیہ ہے، القاعدہ ہے، اخوان المسلمین کا مسئلہ ہے، وہاں اعتدال پسند مسلمان ہیں، وہاں سخت گیر مسلمان ہیں، وہاں باغی گروپ ہیں اور ان کے مخالف بھی موجود ہیں‘۔

کرنل قدافی کے جانے کے بعد وہاں اسلامی جماعتوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ان کا اہم ایجنڈا ان لوگوں کو حکومت سے دور رکھنا تھا جو کرنل قدافی کے لیے کام کرتے تھے۔ لیکن ان جماعتوں نے جلد ہی عوام کی حمایت کھو دی۔

اور اب وہ وہاں دو جماعتیں حکومت ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں: ایک طربلس میں ہے اور ایک مشرق میں ہے۔ دونوں کو یہ ڈر ہے ان کے مخالف اقتدار میں آتے ہی انھیں ہٹادیں گے‘۔

عبدالرحمن الاگیلی کا کہنا ہے کہ طرابلس میں ہر گروہ جنرل ہفتر سے ڈرتا ہے۔ ’انھیں مصر جیسی صورتحال سے ڈر لگتا ہے، انہیں فوجی آمریت سے ڈر لگتا ہے۔‘

دولت اسلامیہ یورپ کو نقصان پہنچانے کے لیے لیبیا کا استحصال کر رہا ہے: میری فزجیرالاڈ

Image caption سنہ 2011 سے لیبیا کے کئی سو افراد شام جاکر حکومت مخالف فورسز میں شامل ہوئے‘

میری فزجیرالڈ نے عرب میں اٹھنے والی عوامی تحریک کے دوران لیبیا سے رپورٹنگ کی اور گزشتہ برس طرابلس میں گزارا۔ ان کا کہنا ہے کہ لیبیا میں دولت اسلامیہ کی مداخلت کو کوئی نہیں ٹال سکتا تھا۔

’سنہ 2011 سے لیبیا کے کئی سو افراد شام جاکر حکومت مخالف فورسز میں شامل ہوگئے اور نوجوان لیبیائي دولت اسلامیہ میں شامل ہوگئے‘۔

’شام اور عراق میں دولت اسلامیہ میں شامل ہونے والے متعدد لیبیائی نوجوان واپس لیبیا آگئے اور اسی دوران دولت اسلامیہ نے اپنے لوگوں کو لیبیا میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے یہاں بھیجا۔‘

’ آپ ایک ایسے ملک کی بات کررہے ہیں جو چاروں طرف سرحدوں سے گھرا ہے اور وہاں سے لوگ آسانی سے سرحد پار کرتے ہیں اور اس وقت اس ملک میں سیاسی اور حفاظتی خلا ہے۔ اور لیبیا میں دولت اسلامیہ کے پاؤں جمانے کی یہ ایک بڑی وجہ ہوسکتی ہے‘۔

بین الاقوامی کھلاڑی منقسم ہیں: اسندر العمرانی

اسندر العمرانی عالمی تنازعات سے نمٹنے کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’ انٹرنیشنل کرائسز گروپ‘ کے شمالی افریقہ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔

مصر متحد عرب امارات کی طرح توبرک کی پارلیمان کی حمایت کرتا ہے اور ان دونوں ممالک کو اسلامی نظریے کے پھیلنے کا ڈر ہے۔

Image caption ’امریکہ کی مشرقی وسطیٰ میں پالیسی ہے کہ وہ دولت اسلامیہ کو شکست دے‘۔

’لیبیا میں کم از کم 15 لاکھ مصری رہتے اور کام کرتے ہیں۔ اگر آپ لیبیا کے بعض شہروں کا دورہ کریں تو آپ دیکھے گے کہ بیشتر بیکریاں چلانے والے مصری ہیں، لیبیا میں کچھ ہوتا ہے تو اس سے دونوں ممالک متاثر ہوتے ہیں‘۔

’فی الوقت مصر لیبیا میں اس حکومت کی حامی ہے جو اسلامی گروہوں کے خلاف ہے۔ لیکن لیبیا کی حقیقت اسلامی اور غیر اسلامی تقسیم سے زیادہ پیچیدہ ہے‘۔

دوسری جانب قطر اور ترکی جیسے ممالک ہیں جنہوں نے سنہ 2011 میں سیاسی اسلام کی حمایت کی تھی اور اس کو خطے میں ایک اہم سیاسی قوت قرار دیا تھا۔

’لیکن مصر میں اخوان المسلمین کا تختہ پلٹنے کے ساتھ ہی ان کے ارادے کی شکست ہوئی اور میرے خیال سے وہ لیبیا میں اسی طرح کی شکست سے ڈرتے ہی کیونکہ وہاں کی سابق پارلیمان پر بھلے ہی اسلامی نظریے والے لوگوں کا غلبہ نہ ہو لیکن وہ سیاسی اسلام سے متاثر تو ہے‘۔

لیبیا کے قریبی ممالک اور بعض یورپی ممالک کو اپنے اپنے مفاد کے لیے لیبیا میں امن اور سکیورٹی چاہیے۔’اٹلی تقریباً پچیس فی قدرتی گیس مغربی لیبیا سے درآمد کرتا ہے تو اسے توانائی سے متعلق سکیورٹی چاہیے‘۔

’اگر آپ امریکہ کو دیکھیں تو اس کی مشرقی وسطیٰ میں پالیسی ہے کہ وہ دولت اسلامیہ کو شکست دے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کو فوراً ضرورت ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی مدد سے لیبیا میں سیاسی سمجھوتا کروائیں۔ اور اگر نہیں تو اس کا متبادل ہے ’طویل المدتی تنازعہ جو کہ کسی بھی سیاسی معاہدے سے مہنگا ثابت ہوگا‘۔

اسی بارے میں