برطانوی جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد کیوں زیادہ ہے؟

برطانیہ کی جیل تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption جیلوں میں مسلمان قیدیوں کا تناسب 14.4 فیصد ہے جو کہ 2002 میں 7.7 فیصد تھا۔

یہ ایک راز ہے۔

کیوں جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے؟

سنہ 2002 میں انگلینڈ اور ویلز قید 5,502 قیدیوں نے کہا تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔

تین سال بعد یہ تعداد بڑھ کر 7,246 ہو گئی اور اب دسمبر 2014 میں یہ 12,225 بتائی جا رہی ہے۔

ٹھیک ہے قیدیوں کی مجموعی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ تعداد 2002 میں 70,778 تھی جو کہ گزشتہ دسمبر تک بڑھ کر 84,691 ہو گئی تھی۔

لیکن جیلوں میں قیدیوں کی 20 فیصد بڑھنے والی تعداد مسلمان قیدیوں کی تعداد سے کہیں کم ہے جو کہ 122 فیصد بڑھی ہے۔

اس کی ایک ممکنہ وضاحت تو یہ ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں کی مجموعی آبادی بھی بڑھی ہے۔ سنہ 2001 کی مردم شماری میں انگلینڈ اور ویلز میں مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا تین فیصد تھی جو کہ تقریباً 1.5 ملین بنتی تھی۔

سنہ 2011 میں یہ تعداد بڑھ کر 4.8 فیصد یعنی 2.7 ملین ہو گئی۔ سو آپ کہیں گے کہ اسی تناسب سے جیلوں میں بھی قیدیوں کی تعداد بڑھی۔

لیکن اگر دیکھا جائے تو جیلوں میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔ اب جیلوں میں مسلمان قیدیوں کا تناسب 14.4 فیصد ہے جو کہ 2002 میں 7.7 فیصد تھا۔

دہشت گردی پر میڈیا کی توجہ سے لگے گا کہ جیلوں میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا تعلق اسلامی دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں سے ہے۔

لیکن اعداد و شمار یہ نہیں بتاتے۔

وزارتِ انصاف کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ اکتوبر 2012 سے لے کر جنوری 2015 تک 178 قیدیوں میں سے 104 مسلمان قیدی دہشت گردی جیسے جرائم کی وجہ سے قید ہیں جن کا محرک انتہا پسندانہ نظریات ہیں۔ یہ تعداد مسلمانوں کی کل آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔

ایک اور عنصر جو بتایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ غیر ملکی قیدیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جو کہ گزشتہ برس 10,500 تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جیلوں میں مسلمان قیدی سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے

وزارتِ انصاف کے 2013 کے ایک تجزیے کے مطابق مسلمان قیدیوں میں سے 30 فیصد برطانوی شہری نہیں۔ گزشتہ برس 10 غیر ملکی قیدیوں میں سب سے نمایاں دو مسلمان ممالک میں سے تھے: پاکستانی (522) اور صومالی (417) تھے۔

اس سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ برطانیہ کی نسلی گروہ اور آبادی کی ہییت بدل چکی ہے جس کی وجہ امیگریشن میں اضافہ، بیرون ممالک سے سفر، اور غیر ملکی ماؤں کے بچے ہیں۔ اس لیے جیل کی آْبادی بھی بدل چکی ہے جس میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔

لیکن اس کے کچھ پسِ پردہ پہلو بھی ہیں۔

سنہ 2010 میں اس وقت کی چیف انسپکٹر آف پرزن ڈیم این نے جیل میں مسلمانوں پر ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس میں انھوں نے جیل میں مسلمانوں کی تعداد کا تعلق عمر اور معاشی اور اقتصادی پروفائل سے جوڑا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’برطانیہ میں زیادہ تر مسلمان قیدیوں کی عمریں غیر مسلموں سے کم ہیں اور زیادہ تر نچلے درجے کے سماجی اور اقتصادی گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

گزشتہ برس 58 فیصد مسلمان قیدی 30 سال یا اس سے کم عمر کے تھے۔

گزشتہ برس ایک اہم رپورٹ میں ہورنسے ریچڈ کی لیڈی لولا ینگ نے بھی رپورٹ میں کہا تھا کہ اس بات کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں کہ انھیں روکا جائے اور ان کی تلاشی لی جائے، اور اس کے بھی زیادہ امکانات ہیں کہ وہ رحم کی اپیل نہ کریں اور ان پر مقدمہ چلے۔

’یہ عدم مساوات ملازمت، صحت اور سماجی برابری نہ ہونے کے ایک پیچدہ مرکب کا حصہ ہے جو ان کی زندگیوں پر اثر کرتا ہے۔‘

لیکن ان کی تحقیق سے ایک اور پریشان کن بات بھی سامنے آتی ہے اور وہ امتیازی سلوک ہے۔ اس کے مطابق پالیسی بنانے والے اور سیاستدانوں کو ابھی منفی سٹیریوٹائپنگ اور ثقافتی فرق کا اثر صحیح طرح سمجھ نہیں آیا۔

لیڈی ینگ نے کہا کہ ’ہم جن قیدیوں کو ملے ان میں سے سبھی نے کہا کہ ان کی نسل، قومیت اور عقیدے کی وجہ سے ان سے امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔‘

’سیاہ فام قیدی محسوس کرتے ہیں کہ انھیں منشیات فروش سمجھا جاتا ہے اور مسلمانوں کو دہشت گرد۔‘

یہ بھی قابلِ ذکر بات ہے کہ جیل میں ایک مرتبہ رہا ہو کر دوبارہ جرم کر کے سزا پانے والے مسلمان قیدیوں کا تناسب دوسرے قیدیوں سے بہت کم ہے۔

اسی بارے میں