شام میں اقوام متحدہ شہریوں کی مدد کرنے میں ناکام رہی ہے: رپورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ شام کے بحران کا سیاسی حل ہی ہو سکتا ہے

عالمی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل شام میں عام شہریوں کی حفاظت اور مدد کرنے کے حوالے سے قراردادوں کا اطلاق کرانے میں ناکام رہی ہے۔

یہ بات اکیس امدادی تنظیموں بشمول سیو دا چلڈرن اور آکسفیم نے کی ہے۔

ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ شام میں پانچ سال سے جاری مسلح تصادم میں یہ سال ’بدترین‘ سال ہے۔

تنظیموں کی جانب سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2011 میں شروع ہونے والے تصادم کے بعد سے شام کے 83 فیصد علاقے میں بجلی نہیں ہے۔

تاہم اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ شام کے بحران کا سیاسی حل ہی ہو سکتا ہے۔

نارویجین ریفوجی کونسل کے سیکریٹری جنرل جین ایگلینڈ کا کہنا ہے ’کڑوا سچ یہ ہے کہ سکیورٹی کونسل اپنی قراردادوں کا اطلاق کرانے میں ناکام رہی ہے۔ تصادم میں فریقین نے سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کو نظر انداز کیا ہے اور شہری محفوظ نہیں ہیں اور ان تک امداد کی رسائی نہیں ہے۔‘

اکیس امدادی تنظیموں کی جانب سے جاری کی جانے والی ’فیلنگ سیریا‘ (Failing Syria) نامی رپورٹ میں کہا گیا ہے

  • لوگ محفوظ نہیں: 2014 مہلک ترین سال رہا جس میں 76 ہزار افراد شامی ہلاک ہوئے
  • امداد تک رسائی: 48 لاکھ افراد ان علاقوں میں رہتے ہیں جن علاقوں کو اقوام متحدہ نے ’رسائی نہایت مشکل ہے‘ کہا ہے۔
  • ضروریات میں اضافہ: 2013 کے مقابلے میں 2014 میں ان بچوں میں 31 فیصد اضافہ ہوا ہے جن کو امداد کی ضرورت ہے اور ان بچوں کی کُل تعداد 56 لاکھ ہو گئی ہے۔
  • ضرورت کے برعکس امداد میں کمی: 2013 میں شام میں عام شہریوں اور ہمسایہ ممالک میں مہاجرین کی مدد کے لیے درکار رقم کا 71 فیصد موصول ہوا جبکہ 2014 میں صرف 57 فیصد۔

بدھ کو 100 سے زیادہ امدادی اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر مشتمل گروپ نے سیٹیلائٹ فوٹوز شائع کی ہیں جس میں شام میں مارچ 2011 سے لے کر 2014 تک 83 فیصد روشنیوں میں کمی آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں