’تکریت میں عراقی فوج کی پیش قدمی جاری‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تکریت سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کے لیے عراقی فوج نے ایک ہفتہ قبل آپریشن شروع کیا تھا

عراق کی سرکاری فوجیں ملک کے شمال مغربی شہر تکریت میں مختلف سمتوں سے پیش قدمی کرتی ہوئی شہر کے مرکزی علاقوں کی طرف بڑھ رہی ہیں جہاں پسپائی اختیار کرتے ہوئے دولت اسلامیہ کے جنگجو جمع ہو رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فوجیوں نے شہر کے شمالی، جنوبی اور مغربی علاقے میں صنعتی زون اور شہر کے مرکز کے قریب ایک اہم چوک کو جنگجوؤں سے خالی کروا لیا ہے۔

’داعش کلورین بم استعمال کر رہی ہے‘

سرکاری فوجیں کے کنٹرول میں شہر کا ٹیچنگ ہسپتال، جنوبی حصے میں والعوج الجدید اور مغرب میں الدیوم اور والہیاکل کے علاقے آ گئے ہیں۔

اس فوجی کارروائی میں 23 ہزار عراقی فوجی اور شیعہ ملیشیا کے ارکان حصہ لیے رہے ہیں جنھیں ایران کا تعاون بھی حاصل ہے۔

عراقی وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ اس آپریشن کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کر دیا جائے گا۔

جمعرات کو تکریت پر قبضے کی جنگ اہم مرحلے میں داخل ہوئی اور اب عراقی فوج اور پولیس کے تین ہزار ارکان وہاں برسرِپیکار ہیں اور انھیں شیعہ ملیشیا کے 20 ہزار کارکنوں کی مدد حاصل ہے۔

خیال رہے کہ ایران اس فوجی کارروائی میں شامل فوجیوں اور شیعہ ملیشیا کے درمیان رابطہ کاری کا کام سرانجام دے رہا ہے۔

عراقی صوبے صلاح الدین میں اس کارروائی کے آپریشنل ہیڈکوارٹر میں حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سرکاری فوج نے شہر کے مرکزی علاقے میں صنعتی علاقے اور اہم چوک پر قبضہ کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فوجی کارروائی میں 30 ہزار عراقی فوجی اور شیعہ ملیشیا کے ارکان حصہ لیے رہے ہیں جنھیں ایران کا تعاون بھی حاصل ہے۔

فوج نے گذشتہ روز شہر کے شمالی ضلع القادسیہ پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔

عراقی حکام کا کہنا ہے اب فوج اور دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں میں مغربی علاقے الظہور میں ’سیلیبریشن سکوائر‘ اور سابق صدر صدام حسین کے دور میں بنائے گئے صدارتی محل کے قریب لڑائی ہو رہی ہے۔

شیعہ ملیشیا کے اہم کمانڈر معین الخادمی نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کو بتایا کہ تکریت کا 75 فیصد حصہ اس وقت حکومتی کنٹرول میں ہے جبکہ بقیہ 25 فیصد میں دولتِ اسلامیہ کے 150 شدت پسند قابض ہیں۔

تکریت میں موجود بی بی سی عربی کے نامہ نگار احمد ماہر کا کہنا ہے کہ شیعہ ملیشیا کے جنگجو اس کارروائی میں صفِ اول پر موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عراقی فوجی بھی اپنی گاڑیوں پر قومی پرچم کے علاوہ شیعہ ملیشیا کے پرچم بھی لہرا رہے ہیں۔

عراقی وزیرِ دفاع خالد العبیدی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تکریت کی جنگ کے بعد عراقی فوج کا اگلا ہدف ملک کا دوسرا بڑا شہر موصل ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’موصل تکریت سے دس گنا بڑا شہر ہے لیکن ہم دولتِ اسلامیہ کو وہاں سے مار بھگانے کے لیے پرعزم ہیں اور یہ عراق سے ان کا خاتمہ ہوگا۔‘

خیال رہے کہ امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے بدھ کو یقین ظاہر کیا تھا کہ عراقی فوج کی تکریت میں کارروائی کامیاب ہو گی باوجود اس کے کہ اس کارروائی میں اسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فضائیہ کی مدد حاصل نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراقی افواج کی مدد کے لیے ایرانیوں کی سرگرمیاں عسکری لحاظ سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں ایک مثبت قدم ہے: جنرل ڈیمپسی

امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین نے بدھ کو واشنگٹن میں سینیٹ کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نواز شیعہ ملیشیا اور عراقی فوج مل کر داعش کو تکریت سے باہر نکال دیں گی۔‘

جنرل ڈیمپسی نے شہر میں موجود سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے بارے میں تشویش کا اظہار بھی کیا ہے کیونکہ ایران کے حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کے ارکان بھی اس لڑائی میں شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا اور کیا وہ سنّی خاندانوں کو ان کے علاقوں میں واپس آنے دینے کے لیے تیار ہوں گے؟ کیا وہ وہاں بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے کام کریں گے یا پھر ظلم اور انتقام کی راہ اپنائیں گے؟‘

تکریت سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کے لیے عراقی فوج نے ایک ہفتہ قبل آپریشن شروع کیا تھا تاہم عراقی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ سڑک کنارے نصب بموں اور نشانہ بازوں کے حملوں کی وجہ سے پیش قدمی کی رفتار سست رہی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند اس وقت عراق اور شام میں بڑے علاقے پر قابض ہیں جن میں عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں