ونواتو میں متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے کی کوششیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ابھی تک 40 ہلاکتوں کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے

بحرالکاہل کے جزائر ونواتو میں سمندری طوفان کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے بعد امدادی ادارے متاثر افراد تک پہنچنے کی کوشش کی رہے ہیں۔

ونواتو کے صدر بالڈون لونزڈیل نے ملک میں سمندری طوفان سے ہونے والی تباہی کے بعد عالمی برادری سے امداد کی اپیل کی ہے۔

انھوں نے اسے ’آفت‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ’بھاری دل‘ کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔

طوفان کے نتیجے میں متاثر ہونے والے ہزاروں افراد نے دوسری رات بھی کھلے آسمان تلے گزاری۔

آکسفیم آسٹریلیا کے مطابق بوٹ ویلا میں 90فیصد مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس کے ایک ترجمان نے صورتحال کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ طوفان سے کئی دیہات مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں جبکہ دور افتتادہ علاقوں سے ابھی تک رابط بحال نہیں ہو سکا جہاں 30 ہزار کی آبادی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ونوواتو کےدارالحکومت پورٹ ولا میں تباہی کے خدشات زیادہ ہیں

بحرالکاہل میں اقوام متحدہ کے ہنگامی صورتحال میں امداد فراہم کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار کے مطابق صورتحال بہت مایوس کن لگتی ہے اور متاثر ہونے والے افراد تک امداد پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ہفتے کو طوفان نے غیر متوقع طور پر رخ بدلا اور گنجان آباد علاقوں سے ٹکرا گیا جس سے ’مکمل تباہی‘ ہوگئی ہے۔

امدادی ادارے سیو دی چلڈرن نے آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے تاہم مزید درجنوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

بہت سے افراد نے گھر تباہ ہونے کے بعد دوسرے روز بھی ہنگامی پناہ گاہوں میں رات گزاری ہے۔

ونواتو کے صدر نے جاپان میں اقوام متحدہ کی قدرتی آفات اور تباہی سے بچنے کے حوالے سے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’میں ونواتو کی حکومت اور عوام کے توسط سے عالمی برادری سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ حالیہ آفت میں ہماری جانب ہاتھ بڑھائیں، جس میں ہم پھنسے ہوئے ہیں۔‘

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے ’اوچا‘ کا کہنا تھا کہ جنوبی بحرالکاہل کے ممالک سے ٹکرانے والے سمندری طوفان کے باعث ونواتو میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ اوچا نے جمعے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ونواتو کے شمال مشرقی صوبے پیناما میں 44 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ جنوبی بحرالکاہل کے ممالک سے ٹکرانے والے سمندری طوفان سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد درجنوں میں ہو سکتی ہے۔

درجہ پانچ کی شدت والے سمندری طوفان ’پام‘ نے جزیرہ ونواتو میں بہت تباہی مچائی ہے اور وہاں 270 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلی ہیں۔

طوفان کے باعث پیدا ہونے والے سیلابی ریلے توالو، کیریباتی اور سولومن جزائر سے ٹکرائے، اس کے علاوہ تیز جھکڑ چلنے سے بھی بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔

طوفان کے بعد ونواتو کے حکام نے ملک بھر میں ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طوفان کے باعث پیدا ہونے والے سیلابی ریلے توالو، کیریباتی اور سولومن جزائر سے ٹکرائے

اسی دوران ایک اور سمندری طوفان جس کی شدت تین درجے ہے، مغربی آسٹریلوی ساحل سے ٹکرایا ہے۔ اس سے علاقے میں 195 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار سے تیز ہوائیں چلیں۔ جنوبی آسٹریلوی ساحلی علاقوں میں آنے والے طوفان کے باعث مقامی افراد کو کہا گیا ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

سمندری طوفان کی وجہ سے توالو میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی ہے جبکہ کیریباتی اور سولومن جزیروں پر سیلابی ریلے نے فصلیں تباہ کر دی ہیں اور کم سے کم تین ہزار مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ونواتو کے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ ادارے کے ترجمان نے بتایا کہ شمالی صوبے کے کئی علاقوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا حالیہ طوفان سنہ 1987 میں آنے والے طوفان سے زیادہ مہلک دکھائی دے رہا ہے۔ اس طوفان میں 50 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ادھر ونواتو کےدارالحکومت پورٹ ولا میں تباہی کے امکانات زیادہ ہیں اور مقامی افراد سے کہا گیا ہے وہ سمندر سے دور رہیں۔

اسی بارے میں