دنیا میں عضو نازک کی پہلی کامیاب پیوندکاری

تصویر کے کاپی رائٹ Stellenboshc
Image caption ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں عضوتناسل کی پیوندکاری کی مانگ دنیا بھر کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے

جنوبی افریقہ میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے عضو نازک کی پہلی کامیاب پیوندکاری کی ہے۔

ایک 21 سالہ شخص کا عضوتناسل ختنے کے دوران ضائع ہوگیا تھا۔جس شخص کی پیوندکاری کی گئی ہے اس کی شناخت ظاہر نھیں کی گئی۔

ڈاکٹروں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن دل کی پیوند کاری کی طرح جان بچانے کے لیے نھیں کیا گیا تھا اور اس حوالے سے بحث بھی جاری تھی کہ کیا اس کا اخلاقی جواز موجود ہے۔

اسی طرح کے کوششیں پہلے بھی کی جاچکی ہیں۔ چین میں بھی ایک بار ایسا آپریشن کیا گیا تھا، وہ آپریشن تو کامیاب رہا تاہم عضو نازک بعد میں کارآمد نہ رہ سکا۔

جنوبی افریقہ میں عضونازک کی کامیاب پیوند کاری ہونے والے شخص کی عمر 18 برس تھی اور وہ جنسی طور پر متحرک تھے جب ان کے ختنے کیےگئے تھے۔

جنوبی افریقہ کے کچھ علاقوں میں لڑکپن کو جوانی میں ڈھالنے کے لیے یہ ختنوں کا یہ طریقہ کار رائج ہے۔

ختنوں کے بعد ان کے عضونازک کا سائز صرف ایک سینٹی میٹر رہ گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنوبی افریقہ کے کچھ علاقوں میں لڑکپن سے جوانی میں ڈھلنے کے وقت ختنے کرنے روایت ہے

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں عضونازک کی پیوندکاری کی مانگ دنیا بھر کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

درجنوں اور کچھ لوگوں کے خیال میں سینکڑوں لڑکے ختنوں کی ان رسم کے دوراج اپاہج یا ہلاک ہوجاتے ہیں۔

سٹیلن بوش یونیورسٹی اور ٹیگربرگ ہسپتال کے سرجنز سے نو گھنٹے طویل آپریشن کے بعد عطیہ کیے ہوئے عضونازک کی پیوندکاری کی۔

ڈاکٹروں کی ٹیم کے رکن آندرے وین مروے، جو عموماً گردوں کی پیوند کاری کرتے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا ’یہ بلاشبہہ ایک مشکل کام تھا، اس کی شریانوں کی چوڑائی 1.5 ملی ملیٹر تھی۔ جبکہ گردے میں یہ ایک سینٹی میٹر تک ہوتی ہیں۔‘

اس پیوندکاری میں انتہائی باریک رگوں اور شریانوں کو جوڑنے کے لیے پہلی بار چہرے کی پیوندکاری میں استعمال ہونے والی چند تکنیکوں کا بھی استعمال کیا۔

یہ آپریشن گذشتہ سال 11 دسمبر کو ہوا تھا اور تین ماہ گزرنے کے بعد ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ تیزی سے صحت یابی ہوئی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پیوندکاری کیےگئے عضو کو مکمل طور پر صحت یاب ہونے میں دو سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

تاہم وہ شخص پیشاب کرنے، تناؤ اور انزال حاصل کرکے قابل ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں